• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سول سروسز اصلاحات کی حکومتی تیاری، فوج، نجی شعبے اور بہترین عالمی تجربات سے مدد لی گئی

انصار عباسی

اسلام آباد … کمیٹی برائے سول سروس اصلاحات نے جدید دور کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ملکی سول بیوروکریسی کی تشکیلِ نو کے سلسلے میں پاک فوج، کارپوریٹ سیکٹر اور عالمی تجربات میں رائج انسانی وسائل (ہیومن ریسورس) کے طریقہ کار کا مفصل جائزہ لیا ہے، جس میں تربیت، بھرتی، کارکردگی کے نظم و نسق، معاوضوں اور ادارہ جاتی تنظیمِ نو جیسے شعبوں میں اصلاحات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے وفاقی وزیر احسن اقبال کی سربراہی میں قائم اس کمیٹی نے موجودہ سول سروس نظام کو فرسودہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے سول سروس اسٹرکچر میں ہمہ جہت اصلاحات کیلئے قابلِ عمل حل تلاش کیے جا رہے ہیں۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں قرار دیا کہ پاک فوج کا انسانی وسائل سے متعلق طریقہ کار نہایت مؤثر اور متاثر کن ہے، جہاں مضبوط ادارہ جاتی بنیادوں پر پیرامیڈ اسٹرکچرڈ نظام سختی سے نافذ ہے۔ اس کے برعکس سول بیوروکریسی میں ہر سرکاری ملازم یہ حق سمجھتا ہے کہ وہ بالآخر اعلیٰ ترین عہدوں تک پہنچے، جبکہ فوج میں اگر 100؍ فیصد کیپٹن میجر کے عہدے تک ترقی پاتے ہیں تو صرف 64؍ فیصد لیفٹیننٹ کرنل، 11؍ فیصد بریگیڈیئر اور محض 5؍ فیصد میجر جنرل کے عہدے تک پہنچ پاتے ہیں۔ فوج میں بھرتی کے مرحلے پر سائیکو میٹرک، جذباتی ذہانت اور قیادت کی صلاحیتوں کے باقاعدہ تجزیے کیے جاتے ہیں، اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے کیڈٹس کو مختلف شعبوں میں منصفانہ انداز میں تعینات کیا جاتا ہے اور انہیں کیریئر میں ترقی کے یکساں مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ کیڈٹس کو ’’درست کام کیلئے درست شخص کی تعیناتی‘‘ (رائٹ پرسن فار رائٹ جاب) کے اصول کے تحت دستیاب اسامیوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا جاتا ہے، جس میں مہارت (اسپیشلائزیشن) کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ اسی طرح سخت اور لازمی تربیت، معیاری اساتذہ اور ٹرینرز کی دستیابی، اسٹاف، فیلڈ اور تربیتی ذمہ داریوں میں کارکردگی کے کثیر سطحی جائزے، جانچنے والوں کی جانچ، اور ترقی کے فیصلے انفرادی صوابدید کے بجائے اجتماعی دانش کے تحت پروموشن بورڈز کے ذریعے کیے جاتے ہیں، جن میں 60؍ فیصد سالانہ خفیہ رپورٹس (اے سی آر) اور عملی کارکردگی، 20؍ فیصد تربیت، 10؍ فیصد نظم و ضبط اور 10؍ فیصد جنگی تجربے کو وزن دیا جاتا ہے۔ فوج کے اس ماڈل سے سیکھتے ہوئے کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ سول سرونٹس کے معاملے میں ترقیاتی بورڈز اپنے طے شدہ اجلاس سے بہت پہلے افسران کی کارکردگی کا جائزہ لیں۔ بورڈ ہر افسر کے رپورٹنگ اور کاؤنٹر سائننگ افسران سے براہِ راست تبادلہ خیال بھی کرے۔ اگر کسی افسر کی مجموعی کیریئر کارکردگی کے مقابلے میں رپورٹنگ یا کاؤنٹر سائننگ افسر کی رائے میں نمایاں فرق ہو تو اس فیڈ بیک کو انہی افسران کی کارکردگی جانچ رپورٹ (پی ای آر) میں شامل کیا جائے۔ کمیٹی نے مزید سفارش کی ہے کہ کارکردگی کی جانچ کیلئے ایک مختلف اور سہ درجاتی مشتمل ریٹنگ سسٹم متعارف کرایا جائے، جس میں کارکردگی کی بالائی حدیں (پرفارمنس سیلنگز) بھی واضح طور پر مقرر ہوں۔ کمیٹی سرکاری ملازمین کی تربیت کے حوالے سے بھی پاک فوج کا ماڈل اپنانے کی حامی ہے۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ مِڈ کیریئر مینجمنٹ کورس (MCMC)، سینئر مینجمنٹ کورس (SMC) اور نیشنل مینجمنٹ کورس (NMC) کیلئے افسران کا انتخاب امتحان پر مبنی مسابقتی عمل کے ذریعے کیا جائے، جس میں ہر کورس کیلئے زیادہ سے زیادہ تین مواقع دیے جائیں۔ جو افسران تین مرتبہ کوشش کے باوجود کسی کورس میں کامیاب نہ ہو سکیں، انہیں قبل از وقت ریٹائرمنٹ کا آپشن دیا جائے۔ تربیت کے دورانیے، طریقہ کار، اساتذہ کے معیار اور نصاب میں نمایاں بہتری لائی جائے، جبکہ تربیت کے کم از کم 50؍ فیصد حصے کو متعلقہ ڈومین یا شعبہ جاتی مہارت کیلئے مخصوص کیا جائے۔ اس کے ساتھ گریڈ 17 تا گریڈ 20 تک ہر افسر کیلئے لازم قرار دیا جائے کہ وہ اپنے متعلقہ اسپیشلائزڈ ٹریننگ اداروں کے تیار کردہ دو قلیل مدتی مخصوص کورسز مکمل کریں۔ کمیٹی نے سول سروس اصلاحات کی تیاری کیلئے کارپوریٹ سیکٹر میں رائج تنظیمی کارکردگی کے ماڈلز کا بھی تفصیلی مطالعہ کیا۔ اس حوالے سے سفارش کی گئی ہے کہ احتساب اور ادارہ جاتی اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کی خاطر کارکردگی کو انفرادی کلیدی کارکردگی اشاریوں (کے پی آئیز) سے منسلک کیا جائے۔ بہترین پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل افراد کو بھرتی اور انہیں اہداف کی بنیاد پر استعداد سازی، کیریئر میں ترقی کے واضح فریم ورک اور جانشین کے انتخاب کی منصوبہ بندی کے ذریعے اسٹریٹجک قیادت کے فرائض کی ادائیگی کیلئے تیار کیا جائے۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ کارکردگی پر مبنی ایک ایسا نظام متعارف کرایا جائے جس میں بھرتی، رِٹینشن اور علیحدگی کے فیصلے شفاف اور ڈیٹا پر مبنی کارکردگی جائزوں کی بنیاد پر کیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ کام کے لچکدار مواقع، حوصلہ افزائی اور اعترافی پروگرامز، ذہنی صحت کے اقدامات اور اقدار پر مبنی تنظیمی ثقافت کے فروغ کے پلیٹ فارمز قائم کیے جائیں، تاکہ خصوصی طور پر خواتین کی شمولیت میں اضافہ ہو سکے۔ کمیٹی نے نتائج پر مبنی کارکردگی نظام کی بھی سفارش کی ہے، جس میں باقاعدہ فیڈ بیک، سالانہ جائزے، 360 ڈگری تشخیص اور متوازن ریٹنگ سسٹم کو شامل کیا جائے تاکہ انصاف، شفافیت اور ادارہ جاتی اہداف کے ساتھ ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ کمیٹی نے برطانیہ، بھارت، ملائیشیا، نیوزی لینڈ، جنوبی کوریا، متحدہ عرب امارات، کینیڈا، سنگاپور، جنوبی افریقہ اور دیگر ممالک میں سول سروس کے عالمی تجربات کا بھی جائزہ لیا ہے۔

اہم خبریں سے مزید