کراچی (اسٹاف رپورٹر) پی ایس ایل 11کے ایڈیشن میں ٹیموں کی تعداد بڑھانے کے بعد انتظامیہ نے ایک اور نئی اڑان بھرلی اور کھلاڑیوں کی نیلامی کا طریقہ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پی ایس ایل گورننگ کونسل کی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں پی ایس ایل چیمپئن لاہور قلندرز نے پلیئرز آکشن کے حق میں ووٹ دیا ۔ اس کے علاوہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز ، اسلام آباد یونائیٹڈ ، کراچی کنگز اور حیدر آباد نے بھی آکشن کے حق میں ووٹ دیا۔ ذرائع کے مطابق فرنچائزز نے نئے ماڈلز کو جانچنے اور بہتر طور پر سمجھنے کیلئے مزید وقت مانگ لیا ہے۔ سیزن میں ڈائریکٹ سائننگ کی اجازت ہوگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پرانی فرنچائزز زیادہ ریٹینشن جبکہ نئی فرنچائزز کم ریٹینشن کے حق میں ہیں۔ ورکنگ کمیٹی میں آکشن ڈرافٹ اور ری ٹینشن کے معاملات پر بحث ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 5 پرانی فرنچائزز نے 4 ری ٹینشن پر اتفاق کیا ان میں ایک برانڈ ایمبیسڈر ہو گا۔ 5 ری ٹینشن ہر کیٹیگری میں ایک ایک ہوگی۔ ایک پلیئر کو نچلی کیٹیگری میں لا کر برانڈ ایمبیسڈر بنایا جا سکے گا۔ ذرائع کے مطابق نئی فرنچائزز باقی پلیئرز پول سے اسی طرح کھلاڑیوں کا انتخاب کر لیں گی۔ باقی پلیئرز پول کا آکشن ہوگا اور فرنچائزز کھلاڑی آکشن میں اٹھائیں گی۔ ورکنگ کمیٹی کے فیصلوں کی حتمی منظوری چیئرمین پی سی بی محسن نقوی دیں گے۔ ضرورت پڑنے پر گورننگ کونسل کا اجلاس طلب کیا جا سکے گا۔ ذرائع کے مطابق پی ایس ایل کے آکشن اور ری ٹینشن کا فارمولا چیئرمین محسن نقوی کو بھجوایا جائے گا اور اگلے ایک 2 روز میں اس کا با قاعدہ اعلان ہو گا ۔ پاکستان سپر لیگ کے گیارھویں ایڈیشن سے قبل چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے فرنچائز مالکان پر زور دیا ہے کہ کھلاڑیوں کے انتخاب کیلئے آکشن ماڈل اپنایا جائے۔ اجلاس کے دوران انہوں نے فرنچائز مارکیٹ ویلیو میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پی ایس ایل 11 کے ڈرافٹ میں کھلاڑیوں کی آکشن کے ذریعے خریداری ٹیموں کے مفاد میں ہوگی اور انہیں اپنی پسند کے کھلاڑی منتخب کرنے کا بہتر موقع ملے گا۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ آکشن ماڈل سے لیگ کی مسابقت اور کشش میں اضافہ ہوگا۔ واضح رہے کہ پی ایس ایل 11 کا آغاز جمعرات 26 مارچ سے ہوگا، جو لیگ کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا، کیونکہ اس سیزن میں سیالکوٹ اور حیدرآباد کی نئی فرنچائزز کی شمولیت کے بعد ٹیموں کی تعداد چھ سے بڑھ کر آٹھ ہو جائے گی۔