• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عوام بجلی اور گیس کے بڑھتے بلوں کے دباؤ میں، خوراک خرچ میں کمی پر مجبور

اسلام آباد(قاسم عباسی)عوام بجلی اور گیس کے بڑھتے بلوں کے دباؤ میں، خوراک خرچ میں کمی پر مجبور، بنیادی غذاؤں کی فی کس کھپت کم ہوگئی، خواتین اور بچوں میں طویل المدتی غذائی قلت کا خطرہ، — تعلیم اور صحت پر خرچ بھی بدستور کم، انسانی سرمایہ کاری بری طرح متاثر،رپورٹ میں انتباہ کیا گیا ہے کہ سماجی تحفظ اور توانائی پالیسی میں اصلاح کے بغیر قومی فلاح اور غذائی صحت کو خطرے کا سامنا ہے۔— گیلپ پاکستان کے ایک نئے تجزیے کے مطابق بڑھتے ہوئے بجلی اور گیس کے بل پاکستانی گھریلو بجٹ پر سب سے بڑا دباؤ بن چکے ہیں، جس کے باعث خاندان یوٹیلیٹی اخراجات پورے کرنے کے لیے خوراک پر اپنا خرچ نمایاں طور پر کم کرنے پر مجبور ہیں۔ منگل کو جاری ہونے والی رپورٹ’’ کیا پاکستانی بجلی اور گیس کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کم کھا رہے ہیں؟‘‘ میں حکومتی ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (HIES) کی بنیاد پر 20 سالہ موازنہ پیش کیا گیا، جس کے مطابق 2005 سے 2025 کے درمیان اوسط گھریلو بجٹ میں رہائش اور یوٹیلیٹیز کا حصہ 15 فیصد سے بڑھ کر 25 فیصد ہو گیاجو تمام اخراجاتی مدات میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اخراجات گھریلو انتخاب کے بجائے سرکاری قیمتوں اور توانائی ٹیرف سے طے ہوتے ہیں۔ ان لازمی اخراجات کے بڑھنے کے ساتھ خوراک پر خرچ 43 فیصد سے گھٹ کر 37 فیصد رہ گیا، جسے گیلپ بہتر دستیابی یا کم قیمتوں کے بجائےساختی دباؤ قرار دیتا ہے، کیونکہ جمود کا شکار حقیقی آمدنی کے باعث خاندان غذائیت کی مقدار اور معیار کم کرنے پر مجبور ہیں۔
اسلام آباد سے مزید