کراچی ( اسٹاف رپورٹر) سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ وفاق کے حوالے کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات نہیں ہونگے؟،کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرنے والی وہ جماعتیں ہیں جنہوں نے لوگوں کو زندہ جلایا، مصطفیٰ کمال کی ہر بات کا میرے پاس منہ توڑ جواب ہے،آپ کے قائد کی ہڑتالوں میں یومیہ سو لوگ مارے جاتے تھے، اس وقت ضمیر کیوں نہیں جاگا۔سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات ہو رہی ہے تمام حقیقت سامنے آجائے گی، کہیں کوئی کوتاہی ہے تو حکومت ایکشن لے گی، تاجروں کی ایسوسی ایشن کو ایس او پیز پر عمل درآمد کا پابند کیا جائے گا۔ جمعرات کو ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پورے پاکستان میں 90 فیصد عمارتیں ایسی ہوں گی جو پرانی ہیں، جن میں ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہوگا، نئی بننے والی عمارتوں میں ایس او پیز پر عمل کرایا جارہا ہے۔ سانحہ گل پلازہ ایک افسوسناک اور دردناک واقعہ ہے، جس پر ہر آنکھ اشکبار اور ہر پاکستانی افسردہ ہے۔ یہ غم صرف لواحقین کا نہیں بلکہ ہم سب کا ہے اور جس کرب سے متاثرہ خاندان گزر رہے ہیں اس تکلیف کی گھڑی میں حکومت سندھ ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانحے کے پہلے روز سے حکومت سندھ ایک نکاتی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے کہ ملبے میں موجود تمام میتوں کو نکالا جائے، ڈی این اے ٹیسٹ کروائے جا رہے ہیں، حکومت کو 86 لاپتہ افراد کی معلومات موصول ہو چکی ہیں جبکہ باقی افراد کی تلاش جاری ہے اور انتظامیہ شب و روز کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کو ایک ایک کروڑ روپے دیے جائیں گے اور سندھ حکومت 1200 دکانداروں کے نقصان کا ازالہ کرے گی، ماضی میں ٹمبر مارکیٹ میں آگ لگنے اور عاشورہ کے موقع پر بولٹن مارکیٹ جلنے کے واقعات میں بھی حکومت سندھ نے چیمبر آف کامرس کے ذریعے نقصان کا تخمینہ لگوا کر متاثرہ دکانداروں کو معاوضہ دیا تھا اور اس بار بھی ایک منظم میکنزم کے تحت دیانتداری سے ازالہ کیا جائے گا۔