کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان کے کئی سابق اور موجودہ ٹاپ کرکٹرز کے حوالے سےاطلاعات میڈیا میں گردش کرہی ہے جس میں کہا جارہا ہے کہ کھلاڑی مبینہ فراڈ کے وا قعہ میں اپنی کروڑوں روپے کی جمع پونجی سے محروم ہوگئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فراڈ کا مرکزی کردار ایک امریکی بزنس مین ہے جس نے دو ارب روپے لے کر اپنا فون بند کردیا ہے۔ مبینہ فراڈ کی خبروں پر کھلاڑیوں نے اپنا مؤقف دیتے ہوئے بتایا کہ ہم نے کمپنی میں انویسٹمنٹ کی تھی، ہمارے ساتھ کوئی فراڈ نہیں ہوا۔ کھلاڑیوں نے مؤقف اختیار کیا کہ کمپنی ہم سے رابطے میں ہے، مارچ تک تمام پیمنٹ کلیئر کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے، صرف 2 چیک باؤنس ہوئے ہیں۔ کھلاڑیوں نے کہا کہ اس سلسلے میں چیئرمین کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے بھی رابطہ کیا ۔ پلیئرز نے انہیںبتایا ہے کہ مارچ تک پیمنٹ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، کمپنی کا مالک دبئی میں ہے اور ہم سے رابطے میں ہے۔ تاہم کر کٹرز نےمبینہ فراڈ کی کسی پلیٹ فارم پرباضابطہ شکایت درج نہیں کرائی ہے۔کاروباری شخص کے ساتھ سرمایہ کاری میں موجودہ کرکٹرز میں سابق اور موجودہ کپتانوں کےنام بھی شامل ہیں، بعض کرکٹرز نے براہ راست بھی کاروباری شخص کےساتھ سرمایہ کاری کی، ذرائع کا کہناہے کہ کرکٹرز کوآغاز میں غیر معمولی منافع بھی ملتا رہا، کمپنی کے مبینہ مالک کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کی 2023سے میرے ساتھ انوسٹمنٹ ہے۔میرا کھلاڑیوں کے ساتھ مکمل تحریری معاہدہ موجودہ ہے۔تمام کھلاڑیوں کے پاس میری کمپنی کے گارنٹی چیک بھی موجود ہیں۔فراڈ جیسے الزامات کی تردید کرتا ہوں۔میں کھبی امریکہ نہیں گیا میں دبئی میں موجود ہوں اور تما م کھلاڑیو ں سے رابطے میں ہوں۔میری کمپنی دبئی کی ہے اور ہم ٹریڈنگ کا کام کرتے ہیں۔پہلی مرتبہ ادائیگیاں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ چند دن میں ادائیگیاں کلئیر کردی جائیں گی۔ پاکستانی ہوں اور پاکستان میں میری فیملی موجود ہے۔