• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ورلڈ کپ کی تباہ کن مہم، کرکٹرز پر نوازشیں ختم، حساب شروع، جرمانہ عائد، سرجری بھی ہوگی

کراچی (عبدالماجد بھٹی) آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تباہ کن کارکردگی پر پاکستانی کرکٹرز پر نوازشیں ختم کردی گئیں، پلیئرز سے حساب لیا جائےگا، ٹیم کو پی سی بی کی جانب سے ساڑھے سات کروڑ روپے جرمانہ عائد کردیا ہے۔ سرجری بھی ہوگی۔ فی کس ہر کھلاڑی کو پچاس لاکھ روپے (18ہزار ڈالرز) جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ پاکستانی ٹیم مسلسل چوتھی بار آئی سی سی کے کسی ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں نہیں پہنچ سکی۔ کرکٹ بورڈ کے ایک اعلی افسر کا کہنا ہے کہ ہم ورلڈ کپ میں بدترین کارکردگی کے بعد کھلاڑیوں کو سبق سکھانا چاہتے ہیں پندرہ کھلاڑیوں پر پچاس، پچاس لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا گیا ہے۔ پی سی بی ترجمان اس بارے میں تصدیق نہیں کررہے لیکن جنگ نے جب ایک اعلٰی سطح کے افسر سے رابطہ کیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ اس بارے میں باضابطہ ہم کوئی اعلان نہیں کررہے لیکن کھلاڑیوں کو خاموشی سے جرمانے عائد کئے جائیں گے۔ ذرائع نے کہا کہ بھارت کے خلاف گروپ میچ کے بعد یہ مشروط فیصلہ کیا گیا تھا کہ ٹیم سیمی فائنل میں پہنچ گئی تو جرمانے کی رقم وصول نہیں کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق کرکٹ بورڈ میں اس حوالے سے سینٹرل کنٹریکٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے قانونی پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے ۔ سینٹرل کنٹریکٹ میں جرمانے کی کوئی شق نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوگیا تویہ پہلا موقع ہوگا ۔ جن کھلاڑیوں پر جرمانوں کی تجویز ہے ان میں صاحبزادہ فرحان ، فخر زمان ،نسیم شاہ سمیت کپتان سلمان علی آغا،بابر اعظم ،صائم ایوب، عثمان خان، شاہین شاہ آفریدی، محمد نواز، شاداب خان نمایاں ہیں۔ ٹورنامنٹ کے ٹاپ اسکورر صاحبزادہ فرحان، عثمان طارق، ابرار احمد، نسیم شاہ، فخر زمان بھی بچ نہیں سکیں گے۔ یاد رہے کہ دو سال پہلے امریکا کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم پہلے راؤنڈ سے باہر ہوئی تھی تو چیئرمین محسن نقوی نے سرجری کا دعوی کیا تھا لیکن سرجری نہ ہوسکی۔ خراب کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کا مستقبل کیا ہوگا اس بارے میں صورتحال غیر یقینی ہے۔ ذرائع کہنا ہے کہ بابر اعظم شاہین آفریدی ،محمد نواز، صائم ایوب سمیت کئی دیگر کھلاڑیوں کو ٹی 20 سے ڈراپ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جن کھلاڑیوں کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ان پر زیادہ جرمانہ عائد کیا جائے گا جبکہ جن کی کارکردگی تسلی بخش رہی ان پر جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا ۔ پی سی بی ماضی میں کھلاڑیوں پر ڈسپلن کی خلاف ورزی پر جرمانے کرتا رہا ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ پورے ٹورنامنٹ میں ٹیم کے اندر کوئی ڈسپلن مسائل نہیں تھے، اور جرمانے خاص طور پر ان کی آن فیلڈ پرفارمنس کے معیار کیلئے لگائے گئے ہیں۔

اسپورٹس سے مزید