کراچی (عبدالماجد بھٹی) ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی مایوس کن کارکردگی کے بعد نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کے بارے میں نت نئی اور فیصلوں میں من مانیوں کی کئی کہانیاں سامنے آرہی ہیں لیکن انہیں عہدے سے سبکدوش کئے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے تاہم پی سی بی انہیں وارننگ دے گا کہ ان کی غلط پلاننگ کی وجہ سے پاکستان ٹیم کو نقصان ہوا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بورڈ مائیک ہیسن کے ٹیم کے ساتھ معاملات کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہا ہے۔ حکام ان سے بات کریں گے، ٹور رپورٹ کا بھی جائزہ لیں گے۔ مائیک ہیسن کے سامنے پہلے سلیکٹرز نے سر تسلیم خم کیا پھر سلمان علی آغا بھی مزاحمت نہ کرسکے۔حدرجہ مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ مائیک ہیسن کا پی سی بی سے معاہدہ دو سال کا ہے ۔ بورڈ ہیڈ کوچ کے حوالے سے مستقل مزاجی کی پالیسی اپنانا چاہتا ہے۔ ورلڈ کپ میں پاکستانی کرکٹرز نے پی سی بی حکام سے ہیڈ کوچ کے خراب رویے سے متعلق براہ راست انفرادی طور پر شکایتیں کی ہیں ۔ ذرائع کے مطابق کوچ رویے نے کھلاڑیوں کو اپ سیٹ کر دیا، وہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ اور مشاورت کے بغیر فیصلے کرتے رہے ۔ کپتان سلمان علی آغا سے بھی مشاورت نہیں کرتے تھے ۔ ہر معاملے میں مداخلت کی ۔ ملبہ کپتان اور کھلاڑیوں پر گرتا رہا ۔ وہ نہ صرف وقفے میں خود گراؤنڈ جاتے بلکہ پیغامات بھی بھجواتے تھے، بیٹنگ آرڈر اور پلیئنگ الیون میں فخر زمان، خواجہ نافع، ابرار احمد اور دیگر کی عدم شمولیت کے فیصلے کوچ نے کئے ۔ ان کو سلیکشن کمیٹی میں بھی بھرپور طاقت دی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیم کی شکست کے بعد علیم ڈار نے استعفی دے دیا لیکن اگرٹیم غلط منتخب ہوئی تھی تو انہوں نے اس پر دستخط کیوں کئے۔ شکست کے بعد وہ ہیرو بن کر غلطیوں کی نشاندہی کررہے ہیں۔ جنگ کی تحقیق کے مطابق چند ماہ قبل ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ جیسن گلسپی نے عاقب جاوید پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے استعفی دے دیا تھا اب علیم ڈار سلیکشن معاملات میں عاقب جاوید کی خاموشی حیران ہیں ؟ ان کے خیال میں کپتان سلمان علی آغا کی علیم ڈار کی نظر میں اسکواڈ میں جگہ ہی نہیں بنتی ۔ واضح رہے کہ علیم ڈار تنخواہ کے بغیر کام کررہے تھے۔