• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سانحہ گل پلازہ، جاں بحق افراد کی تعداد 71 ہوگئی، 20 کی شناخت

کراچی( اسٹاف رپورٹر )سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کی تعداد 71ہو گئی ہے،جاں بحق ہونے والے مزید 4افراد کی شناخت کر لی گئی ہے۔ سربراہ سی پی ایل سی شناخت پروجیکٹ عامر حسن نے بتایا کہ اب تک مجموعی طور پر 20افراد کی شناخت کی جا چکی ہے۔ڈی این اے ذریعے 13 افراد کی شناخت کی گئی ہے۔اب تک 71 پوسٹ مارٹم مکمل کر لئے گئے ہیں۔دوسری جانب پولیس نے بتایا کہ سول اسپتال میں 71 افراد کی لاشوں کی 174 کی کارروائی کر لی گئی ہے۔اب تک 20افراد کی شناخت کی جا چکی ہے جبکہ 51 کی شناخت نہیں ہو سکی ہے ۔71 لاشوں اور 55 فیملیز سے ڈی این اے کے نمونے لئے گئے ہیں ۔50افراد کی لوکیشن گل پلازہ کی معلوم ہوئی ہے۔جن چار افراد کی شناخت کی گئی ہے ان میں محمد عارف، محمد رمضان، محمد حنیف اور خاتون کوثر پروین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں گارڈن کے رہائشی 44 سالہ محمد رفیق ولد انور علی اور نارتھ ناظم آباد کے رہائشی 26 سالہ چرچل مسیح ولد نوید مسیح کی میتیں ڈی این اے سے شناخت کے بعد ایدھی سرد خانے سے ورثاء کے حوالے کردی گئیں۔محمد رفیق کی گل پلازہ میں کراکری کی دکان تھی جبکہ چرچل مسیح کی گل پلازہ میں فلاور شاپ تھی۔گزشتہ شب مزید انسانی باقیات اسپتال لائی گئی تھیں جن کی جانچ کی جائے گی۔ممکنہ طور پر یہ باقیات چار لوگوں کی ہوسکتی ہیں۔پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمیعہ طارق نے بتایا کہ سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق 71 افراد کاپوسٹ مارٹم مکمل کیا جاچکا ہے۔ لاشیں جل جانے کی وجہ سے ڈی این اے کا عمل بھی پیچیدہ ہے۔دوسری جانب متاثرہ عمارت کے ملبے سے سرچنگ کے دوران دو ڈی وی آر ملی ہیں۔برآمد ڈی وی آرز کو تحقیقات کے لئے محفوظ کر لیا گیا ہے۔تحقیقاتی حکام کی جانب سے ڈی وی آر میں محفوظ فوٹیج سےحفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا جائےگا۔آگ کی ابتدا کہاں سے ہوئی فوٹیجز سے معلوم کیا جا سکے گا۔ویڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے آخری بار عمارت میں داخل اور باہر نکلنے والےافراد کی نشاندہی ممکن ہوگی۔ٹیکنکل اور فارنزک ماہرین ڈی وی آر ز کی جانچ کریں گے۔ایس ایس پی سٹی عارف عزیز نے بتایا کہ ڈی وی آر اب تک مکمل نہیں ملی ہے۔ ڈی وی آر کی ہارڈ ڈسک مسنگ ہے۔ مطلوبہ ڈی وی آر کے حوالے سے کوشش جاری ہے ۔مقدمہ وزیر اعلیٰ کی بنائی ہوئی کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر درج کیا جائے گا۔ترجمان ریسکیو 1122 حسان علی نے میڈیا کو بتایا کہ ریسکیو 1122 مختلف پارٹس میں سرچ آپریشن میں مصروف ہے ۔ملبے کے اندر تلاش چیلنجنگ ہے مگر اسے بھی سرچ کررہے ہیں ۔بیسمنٹ کو ابتداء میں بھی سرچ کیا گیا تھا، دوبارہ سرچ کیا گیا ۔آج کچھ رقوم برآمد ہوئیں وہ انتظامیہ کے حوالے کی گئی ہیں۔ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کی سپورٹ کے ساتھ سرچ آپریشن کررہے ہیں۔ڈی جی ریسکیو 1122 بریگیڈیر (ر) واجد مہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کل تک بلڈنگ میں آپریشن کیاگیا ،63 سے 64 لاشیں مل چکی ہیں۔آج بلڈنگ کی سرچنگ مکمل کریں گے۔10 سے 15 فیصد حصہ وہ ہے جہاں نہیں پہنچ سکے تھے۔انہوں نے بتایا کہ آج وہاں بھی پہنچ کر سرچنگ کی جائے گی۔کچھ خدشہ ہے کہ گرائونڈ فلور جہاں آگ لگی تھی وہاں نہیں پہنچ سکے ہیں،ممکنہ طور پر وہاں سے لاشیں ملنے کا امکان ہے۔انہوں نے بتایا کہ ریسکیو 1122کے پاس جدید آلات موجود ہیں۔یہاں جب ریسکیو 1122 پہنچی تو تیسرے درجے کی آگ تھی ۔دنیا میں کہیں ایسا سوٹ موجود نہیں جو تیسرے درجے کی آگ میں استعمال کئے جاسکیں۔دنیا کے جدید سوٹ اور ماسک موجود ہیں۔امید نہیں کہ کوئی زندگی یہاں موجود ہے۔انہوں نے بتایا کہ سانحے کو سات روز ہوچکے ہیں۔امکان ہے جس مقام پر آگ لگی وہاں سے لاشیں ملیں گی۔ان کا کہنا تھا جب آگ لگی تو 15 سے 20 افراد کو ریسکیو کر کے نکالا گیا تھا۔بلڈنگ میں فائر سیفٹی کا سسٹم یا تو موجود نہیں تھا یا پھر فعال نہیں تھا۔پچھلے تین دن سے یو ایس جی پی ایس ریڈار بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ریڈار کے ذریعے دیکھا گیا کہ کوئی زندہ موجود تو نہیں۔اب تک بتایاگیا کہ فلاور شاپ میں آگ لگی اور آگ ڈک کے ذریعے پھیلی۔مزید پولیس اس حوالے سے تفتیش کررہی ہے۔آگ کیوں تیزی سے پھیلی اس کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ابتدائی طور پر معلوم ہوا ہے کہ ڈک کے ذریعے آگ پھیلی۔ڈی سی سائوتھ جاوید نبی کے مطابق سرچ آپریشن حتمی مراحل میں ہے۔مسنگ پرسن کی فائنل فہرست 77 ہے ،مزید کوئی لاپتہ ہے تو وہ رابطہ کرسکتا ہے۔ایس بی سی اے کی ٹیم یہاں تعینات ہے،انکی نگرانی میں تمام کام ہورہا ہے۔ ڈی سی سائوتھ جاوید نبی کے مطابق ابھی تک 90 فیصد بلڈنگ کلیئر کر دی ہے ،10 فیصد حصہ وہ ہے جو منہدم ہوا ۔71 افراد کی موت کی تصدیق ہو گئی ہے ،اب تک 10 سے 11 افراد مسنگ ہیں ان کی تلاش جاری ہے۔ملبہ ہٹانے میں کافی وقت لگے گا۔ملبہ ہٹانے کے دوران آج گولڈ بھی ملا ہے ۔ڈی وی آر تحویل میں لے کر پولیس کے ہینڈ اوور کر دی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ سونا اور نقدی بھی ملی ہے جو ایسو سی ایشن کے حوالے کر دی گئی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ سرچ آپریشن آج رات تک مکمل ہونے کا امکان ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ڈمپر سے انسانی باقیات ملنا غلط فہمی کے باعث ہوا تھا۔ایک پیکٹ غلطی سے چلا گیا تھا اسے ریکورکرلیا گیا ہے۔کے ایم سی فائر بریگیڈ کے فائر اور ریسیکو افسر ظفر خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سانحہ گل پلازہ کے ملبہ سے اب انسانی لاشیں ملنا ناممکن ہے۔گل پلازہ کے بیسمنٹ اور ملبہ کے اوپر کے موجود ڈیزل ٹینک میں دوبارہ لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔ملبے سے صرف اب انسانی ہڈیاں مل رہی ہیں۔ملبے میں ممکنہ طورپر دبے افراد کی تلاش کے لئے سرچنگ آپریشن جاری ہے ۔سرچنگ کے عمل میں ملبہ سے اب صرف انسانی ہڈیاں مل رہی ہیں۔ریسیکو ٹیمیوں کی کوشش ہے کہ ملبے تلے ممکنہ طور پر اگر کوئی لاش ہو تو اس کو نکال لیا جائے۔

اہم خبریں سے مزید