کراچی (نیوز ڈیسک) ایران میں احتجاجی ہلاکتیں 30 ہزار سے تجاوز کرسکتی ہیں، صحت حکام کا انکشاف، ہلاکتوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ لاشیں منتقل کرنے کیلئے ایمبولینسیں کم پڑ گئیں اور ٹرک استعمال کرنا پڑے، یہ تعداد حکومتی اعدادوشمارسے کہیں زیادہ، تاہم امریکی میگزین نے ان کی آزادانہ تصدیق ممکن نہ ہونے کا بھی کہا۔بایران کے دو سینئر وزارت صحت کے حکام نے ٹائم کو بتایا کہ صرف 8 اور 9 جنوری کو ایران کی سڑکوں پر احتجاج کے دوران ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 30,000 ہوسکتی ہے، جو حکومت کی پہلے سے ظاہر شدہ ہلاکتوں کی تعداد 3,117 سے کہیں زیادہ ہے۔ سیکورٹی فورسز کی جانب سے کیے گئے بڑے پیمانے پر تشدد نے ریاست کی ہلاکت شدگان کی دیکھ بھال کی صلاحیت کو بھی متاثر کیا، اتنا کہ باڈی بیگز ختم ہو گئے اور ایمبولینسز کی جگہ بڑے ٹرک استعمال کیے گئے۔