• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا میئر کے عہدے پر فائز شخص وکالت جاری رکھ سکتا ہے؟سپریم کورٹ

اسلام آباد (رپورٹ/ رانا مسعود حسین) سپریم کورٹ نے ایک اہم آئینی و قانونی نکتے پر سوال اٹھاتے ہوئے میئرکراچی مرتضی وہاب کے بطور وکیل عدالت میں پیش ہونے کی اہلیت کا جائزہ لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے استفسار کیا ہے کہ کیا کوئی عوامی عہدہ رکھنے والا شخص، بالخصوص ایک منتخب میئر، اپنے عہدہ کی مدت کے دوران پیشہ ورانہ وکالت جاری رکھ سکتا ہے؟عدالت نے کیس کے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کو ہدایت کی ہے کہ آئندہ سماعت پر مرتضی وہاب ایڈووکیٹ کی ذاتی پیشی یقینی بنائی جائے تاکہ وہ اس قانونی نکتے پر عدالت کی معاونت کرسکیں‘اگر وہ پیش نہیں ہوتے تو ایڈووکیٹ آن ریکارڈ خود کیس پر بحث کے لیے مکمل تیاری کے ساتھ آئیں۔جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں جسٹس ملک شہزاد احمد خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 21جنوری 2026کو ایک فوجداری درخواست (77-K/2024) جہانگیر صدیقی بنام ریاست کی سماعت کی تو درخواست گزار جہانگیر صدیقی کی پیروی خالد جاوید خان ایڈوکیٹ نے کی،دوران سماعت فریق دوئم کی جانب سے مقدمہ کے التواء کی درخواست پیش کی گئی، جس پر عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا اور اسے’’آخری موقع‘‘قرار دیا،تاہم مقدمہ میں نیا موڑ اس وقت آیا جب عدالت کو یہ بتایا گیا کہ اس مقدمہ میں فریق دوئم کے وکیل مرتضی وہاب ہیں، جو اس وقت میئر کراچی کے عہدہ پر فائز ہیں،عدالت نے کیس کے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کو ہدایت کی ہے کہ آئندہ سماعت پر مرتضی وہاب ایڈوکیٹ کی ذاتی پیشی یقینی بنائی جائے‘کیس کی مزید سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے، ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک مقدمہ میں التوا ء کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس میں پیشہ ورانہ اخلاقیات اور قانونی ضابطوں کا سوال بھی موجود ہے،جس پرعدالت ممکنہ طور پردرج ذیل اہم نکات پر وضاحت طلب کرسکتی ہے کہ ؟ کیا ایک فعال میئر، جو سرکاری مراعات اور تنخواہ وصول کر رہا ہے؟
اہم خبریں سے مزید