کراچی (نیوز ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کودھمکیاں دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کا وقت ہاتھ سے نکل رہا ہے ، تہران پر اگلہ حملہ پہلے سے بھی بڑا ہوگا، وقت کم ہے اور فیصلہ فوری طور پر کرنا ہوگا، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بیان میں کہا تھا کہ اگر مذاکرات چاہتے ہیں تو دھمکیوں اور غیر منطقی مطالبات کو ختم کرنا ہوگا،قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی نے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر گفتگو کی ہے، قطری وزیراعظم نےکشیدگی میں کمی اور پُرامن حل کی اہمیت پر زور دیا۔ تفصیلات کے مطابق صدر ٹرمپ کی ایران پر حملے کی دھمکی کے جواب میں اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر مذاکرات کیلئے تیار ہے تاہم اگر ایران پر دباؤ ڈالا گیا تو ایسا جواب دیا جائے گا جس کی پہلے مثال نہیں ملتی، امریکا نے ماضی میں افغانستان اور عراق کی جنگوں میں غلطیاں کیں جن پر سات کھرب ڈالر سے زیادہ خرچ ہوا اور سات ہزار سے زائد امریکی جانیں ضائع ہوئیں، صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ ’امید ہے ایران جلد مذاکرات کی میز پر آئے گا اور ایک منصفانہ معاہدہ کرے گا جس میں ایٹمی ہتھیار شامل نہ ہوں۔ ‘ان کے بقول وقت کم ہے اور فیصلہ فوری طور پر کرنا ہوگا۔