• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

 خیبرپختونخوا، سرکاری یونیورسٹی فیسوں میں اضافہ کی رپورٹ طلب

پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا اسمبلی میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کی فیسوں اور شوگر سیس کے استعمال سے متعلق اہم سوالات زیرِ بحث آئے، جہاں اپوزیشن اراکین نے طلبہ پر بڑھتے مالی بوجھ اور محصولات کے شفاف استعمال پر وضاحت طلب کی۔عوامی نیشنل پارٹی کی رکن اسمبلی شاہدہ بی بی نے عبدالولی خان یونیورسٹی سے متعلق سوال اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایوان کو یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات، طلبہ کی مجموعی تعداد اور فیس اسٹرکچر کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے یہ بھی استفسار کیا کہ آیا صوبائی حکومت طلبہ کے پیشِ نظر فیسوں میں کمی کا کوئی ارادہ رکھتی ہے یا نہیں۔جواب میں صوبائی وزیر برائے قانون آفتاب عالم نے بتایا کہ عبدالولی خان یونیورسٹی میں اس وقت طلبہ کی مجموعی تعداد 14 ہزار 726 ہے، جبکہ فیس کا تعین یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کرتی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ فیس اسٹرکچر میں سالانہ اوسطاً دس فیصد اضافہ کیا جاتا ہے۔ وزیر قانون نے کہا کہ یونیورسٹیوں کا بنیادی ذریعہ آمدن فیس ہی ہوتی ہے تاہم حکومت کی جانب سے گرانٹس بھی دی جاتی ہیں تاکہ طلبہ پر اضافی مالی بوجھ نہ پڑے۔
پشاور سے مزید