• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

KP اسمبلی،اقلیتوں کے کوٹے پر عملدرآمد کا معاملہ،ایوان میں توجہ کا مرکز

پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا اسمبلی میں اقلیتوں کے لئے مختص پانچ فیصد کوٹے پر عملدرآمد کا معاملہ ایک بار پھر ایوان میں توجہ کا مرکز بن گیا۔ منگل کے روز صوبائی اسمبلی اجلاس میں وقفۂ سوالات کے دوران اقلیتی رکن سریش کمار نے محکمہ تعلیم میں اقلیتوں کے کوٹے پر عدم عملدرآمد، خالی آسامیوں اور مختلف تعلیمی اداروں کی جانب سے قواعد نہ ہونے جیسے نکات اٹھاتے ہوئے معاملہ فوری طور پر قائمہ کمیٹی کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا۔سریش کمار کے مطابق 2018ء سے اب تک محکمہ تعلیم میں اقلیتوں کے لئے مجموعی طور پر 372 اسامیاں مختص کی گئیں، جن میں سے 226 پر تقرریاں کی گئیں جبکہ 146 آسامیاں تاحال خالی پڑی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں سے 222 آسامیاں صرف ڈائریکٹوریٹ آف ہائر ایجوکیشن پشاور نے دیں جبکہ باقی 44 محکموں نے مجموعی طور پر صرف 150 آسامیاں فراہم کیں۔اقلیتی رکن نے ایوان کو آگاہ کیا کہ یونیورسٹی آف صوابی کا موقف ہے کہ کسی اقلیتی امیدوار نے درخواست ہی جمع نہیں کرائی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسامیاں باقاعدہ طور پر مشتہر ہی نہیں کی گئیں ، اسی طرح یو ای ٹی، کوہاٹ یونیورسٹی، سوات اور ہزارہ یونیورسٹی میں اقلیتی کوٹے سے متعلق تاحال کوئی واضح قواعد و ضوابط تشکیل نہیں دئیے گئے۔
پشاور سے مزید