کراچی(طاہر عزیز)کراچی سے اندرون ملک گاڑیوں کے ذریعے سفر کرنیوالوں کیلئے حکومت سندھ ایک بڑا منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہو گیا شاہراہ بھٹو(ملیر ایکسپریس وے)کا 90فیصد فزیکل کام مکمل ہو گیا ہے قیوم آباد سے کاٹھورسپر ہائی وے تک 39کلومیٹر طویل سڑک کے افتتاح کی ڈیڈ لائن 31مارچ رکھی گئی ہےپبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت منصوبے کا سنگ بنیاد 22اپریل2022 کوچیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے رکھا تھا جس میں قیوم آباد سےقائدآباد تک15کلومیٹر سڑک ٹریفک کے لئے کھول دی گئی ہےسپرہائی تک بقیہ سڑک پر کام تیزی سے جاری اور اس کے بھی بیشتر حصے پر کارپٹننگ کر دی گئی ہےقائدآباد سے سموں گوٹھ تک پانچ کلومیٹرسڑک ندی کے اندرایلیویٹڈ تعمیر کی جا رہی ہےاس کے بیم اور ٹرانزم کی تکمیل کے بعد گرڈر رکھنے کا کام بھی آخری مراحل میں ہے اور جلد اس حصے کی کارپٹننگ شروع کر دی جائے گی پہلے منصوبہ مکمل کرنے کی آخری تاریخ31 دسبر2025 رکھی گئی تھی تاہم گزشتہ سال مون سون میں غیر معمولی بارشوں اور سیلاب کے باعث ندی میں ہیوی مشینری ڈیڑھ سے دو ماہ تک مو و نہیں کر سکی تھی جبکہ ذرائع کا کہنا ہےکہ اس کو مکمل کھولنے میں مئی تک کا وقت ہو جائے گاشاہراہ بھٹو دو رویہ اور تین تین لین پر مشمل ہے اس کی کل لاگت 54ارب روپے ہےجس میں 20ارب روپے کی رقم حکومت سندھ نے ادا کی ہےیہ سڑک سپر ہائی وے کو بحریہ ٹاون اور ڈی ایچ اے سٹی کے درمیان جا کر مل جاتی ہےپروجیکٹ ڈائریکٹر نیاز سومرو نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ کراچی کے اس اہم منصوبے کو 31مارچ تک مکمل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے انہوںنے کہا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ ٹرانزم جن کا وزن 160 ٹن فی ٹرانزم ہے انہیں زمین پرپری کاسٹ کرنے کے بعد بیم پر رکھا گیاہے اس عمل سے وقت کی بہت زیادہ بچت ہوئی انہوں ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ بارشوں کے دوران کے سڑک کے جس حصے کی مٹی بہہ گئی تھی اب وہاں بھی پل بنا دیا گیا ہےپروجیکٹ دائریکٹر نے مزید کہا کہ سڑک بنانے کی قیمت ٹول تٹیکس سے پوری کی جائے گی معاہدے کے مطابق 24ہزارگاڑیاں(ایم آر جی) مقرر کی گئی ہے لیکن یہ اس وقت صرف قیوم آباد سے قائدآباد تک روزانہ 17ہزارگاڑیاںہے سپر ہائی تک سڑک مکمل ہونے کے بعدیہ تعداد 30ہزار کو بھی کراس کر جائے گی جو ایک بڑی کامیابی ہو گی۔