کراچی (بابر علی اعوان) میر خلیل الرحمان فاؤنڈیشن کے تحت پاپولیشن کونسل اور یو کے انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ کے اشتراک سے خاندانی منصوبہ بندی کی مہم ’’وقفہ، آپکی فلاح، پاکستان کی بقا‘‘ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ مہم کی افتتاحی تقریب جمعے کو ناپا میں منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ آبادی میں بے قابو اضافے کو سنگین سماجی اور معاشی چیلنج ہے،مسلسل خاندانی منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے،54برس میں پاکستان کی آبادی بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں دگنا بڑھ گئی، برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر نے کہا خاندانی منصوبہ بندی کے شعبے میں معاونت کر رہے ہیں لاکھوں افراد تک سہولتوں کی رسائی ممکن بنائی، زچگی سے متعلق ہزاروں اموات کو روکا گیا،زیبا ستھر نے کہا بار بار حمل خواتین کی صحت کیلئے خطرناک ہے،شہزاد رائے نے کہا آبادی میں تیزی سے اضافہ خطرناک مسئلہ ہے، شاہ رخ نے کہا ’’وقفہ‘‘ مہم ماں، بچے اور معاشرے کیلئے ضروری، رکن سندھ اسمبلی و پارلیمانی سیکریٹری برائے صحت و بہبود آبادی ندا کھوڑو نے کہا فیملی پلاننگ سماجی اور معاشرتی ترقی کیلئے بھی ضروری ہے، حفیظ اللہ عباسی نے کہا کہ آبادی کے مسئلے کا موثر حل لڑکیوں کی تعلیم ہے،تقریب سےڈاکٹر اکبر زیدی،عائشہ لغاری نے بھی خطاب کیا۔ تقریب کی نظامت کے فرائض سارہ الیاس نے سرانجام دیئے۔ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ آبادی صورتحال کے تناظر میں فیملی پلاننگ اور آبادی کنٹرول مہم نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب پاکستان قائم ہوا تو ایک خاتون اوسطاً 7 بچے جنم دیتی تھی، جبکہ آج ہم تقریباً 3.5 یا 3.6 کے تناسب پر ہیں، جبکہ بنگلا دیش میں یہ شرح 2 پر پہنچ چکی ہے۔ بنگلا دیش نے آبادی کے مسئلے کو قوم کی بقا کے لیے قومی پالیسی کے طور پر اپنایا، جبکہ پاکستان میں پالیسیاں بار بار تبدیل ہوتی رہی ہیں اور مارشل لاء کے دوران اس پر بات کرنا بھی ممنوع سمجھا جاتا رہا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مسئلے پر قابو پانے کے لیے اب بھی 15 سے 20 گنا زیادہ محنت کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں میر خلیل الرحمٰن فاؤنڈیشن، جنگ جیو نیٹ ورک، پاپولیشن ڈپارٹمنٹ، وفاقی و صوبائی حکومت اور پاپولیشن کونسل کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ میر خلیل الرحمان فاؤنڈیشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر شاہ رخ حسن نے کہا ہے کہ “وقفہ” مہم ماں، بچے اور معاشرے کی صحت کیلئے نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ مہم کامیاب شراکت داری پر مبنی ہے جس میں کامن ویلتھ ڈیولپمنٹ آرگنائزر، پاپولیشن کونسل، جیو اور جنگ گروپ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1965 سے جاری فیملی پلاننگ مہمات کے تجربات سے سیکھ کر وقفہ کو ترتیب دیا گیا ہے۔ شاہ رخ حسن نے کہا کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں سے مشاورت کے بعد سب نے مثبت ردعمل دیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی موجودگی اور دیگر عہدیداروں کی شرکت سندھ حکومت کی کمٹمنٹ کو ظاہر کرتی ہے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال اور وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر نے بھی اپنی حمایت کا اعلان کیا۔ شاہ رخ حسن نے کہا کہ آبادی میں تیز رفتار اضافے کی شرح کو کم کرنا ضروری ہے اور فیملی پلاننگ صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ماں اور بچے کی صحت کا مسئلہ ہے، جس سے انسانی جانیں بچائی جا سکتی ہیں اور بچوں کو اہمیت دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے پاپولیشن کونسل اور ڈاکٹر یاسمین قاضی، گیلپ ٹیم کے ساتھ تعاون کی تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ وقفہ کے تخلیقی کانٹینٹ کا اثر نہ صرف مہم کے دوران بلکہ بعد میں بھی جاری رہے گا رکن سندھ اسمبلی و پارلیمانی سیکریٹری برائے صحت و بہبود آبادی ندا کھوڑو نے کہا ہے کہ سندھ کے لیے یہ دن نہ صرف فیملی پلاننگ مہم کے آغاز کا دن ہے بلکہ صحت، ذمہ داری اور امید کا پیغام بھی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فیملی پلاننگ اور برتھ اسپیسنگ کو اکثر غلط سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ صحت، ذمہ داری اور خاندان کے وقار کی عکاسی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ نے ری پروڈکٹیو ہیلتھ کو قوانین اور ذمہ داری کے ساتھ نافذ کیا ہے جو سماجی اور معاشرتی ترقی کے لیے بھی ضروری ہے۔ صوبے میں 25 ہزار سے زیادہ ڈاکٹر اور پیرامیڈیکس فیملی پلاننگ کے لیے تربیت یافتہ ہیں، جبکہ 1,100 سے زائد سروس ڈیلیوری پوائنٹس اور 3,000 سے زیادہ مراکز فعال ہیں جبکہ سندھ میں جدید اے آئی بیسڈ فیملی پلاننگ چیٹ بوٹ بھی دستیاب ہے۔ برطانیہ کے کراچی میں ڈپٹی ہائی کمشنر لانس ڈوم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ 2012 سے پاکستان میں مختلف عطیہ دہندگان اور مہمات کے ذریعے خاندانی منصوبہ بندی کے شعبے میں معاونت کر رہا ہے، اور ان مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان اقدامات کے تحت لاکھوں افراد تک خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات کی رسائی ممکن بنائی گئی، ہزاروں زچگی سے متعلق اموات کو روکا گیا، جبکہ لاکھوں غیر ارادی اور ناپسندیدہ حملوں کی پیش بندی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ افراد کو تولیدی انتخاب کا اختیار دینا نہ صرف ایک مؤثر سماجی پالیسی ہے بلکہ ایک دانشمندانہ معاشی حکمتِ عملی بھی ثابت ہوتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ ایک سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جدید مانع حمل طریقے استعمال نہ کرنے والے زیادہ تر گھرانے یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے استعمال سے صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ایسے میں اس مہم کے ذریعے درست معلومات کی فراہمی سے زیادہ سے زیادہ خاندان باخبر انداز میں خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق فیصلے کر سکیں گے۔ پاپولیشن کونسل پاکستان کی کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر زیبا ستھر نے کہا کہ کونسل اس فیملی پلاننگ مہم کی پراؤڈ پارٹنر ہے، جس میں وفاقی و صوبائی حکومت اور یو کے گورنمنٹ بھی شامل ہیں۔ انہوں نے مہم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف آبادی کے بڑھنے پر بات نہیں کرے گی بلکہ خاندان، توازن، انسانی حقوق اور وسائل کی دستیابی جیسے مسائل پر بھی روشنی ڈالے گی۔ ڈاکٹر زیبا ستھر نے کہا کہ پاپولیشن کونسل نے ثقافتی اور مذہبی حدود میں رہتے ہوئے مختلف اسٹیک ہولڈرز بشمول مذہبی رہنماؤں، میڈیا، خاندانوں اور این جی اوز کے ساتھ مل کر نیشنل پلان آف ایکشن تیار کیا ہے اور کاؤنسل آف اسلامک آئیڈیالوجی سے مکمل اجازت بھی حاصل کی گئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خواتین کو بااختیار بنانا ضروری ہے کیونکہ بار بار حمل خواتین کی صحت کے لیے خطرناک ہیں، اور اس مہم سے اس ضمن میں مدد ملے گی۔ اس موقع پر ایک پینل ڈسکشن کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں مختلف ماہرین اور پالیسی سازوں نے آبادی، فیملی پلاننگ اور آگہی کے موضوعات پر اظہارِ خیال کیا۔ پاکستان میں ایمبیسیڈر برائے آبادی و سماجی کارکن شہزاد رائے نے کہا کہ آبادی میں تیزی سے اضافہ ایک خطرناک مسئلہ بن چکا ہے جس پر فوری عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت شادی سے قبل دلہا دلہن کے لیے آگہی پر مبنی آن لائن کورس لازمی قرار دیا جائے اور نکاح رجسٹریشن سے پہلے نادرا کے ذریعے اس کورس کی تکمیل کو یقینی بنایا جائے تاکہ نئے جوڑوں کو بنیادی معلومات فراہم کی جا سکیں۔