نئی دہلی (جنگ نیوز) پاکستان کے اعلان کے بعد کہ وہ ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں بھارت کے خلاف اپنا میچ نہیں کھیلے گا، بھارت میں صف ماتم بچھ گئی ۔ بھارتی میڈیا، سابق کھلاڑی اور سوشل میڈیا صارفین بلبلا اٹھے۔ شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ بھارتی تجزیہ کاروں نے اس فیصلے کو کرکٹ کے سب سے بڑے روایتی مقابلے سے گریز اور اقدام بین الاقوامی کرکٹ کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ سابق بھارتی کرکٹر اَتل واسن نے واضح کیا کہ پاکستان کے اقدام سے تمام کرکٹ کھیلنے والی قوموں اور آئی سی سی کو نقصان پہنچے گا اور یہ ایک ناقابل قبول قدم ہے۔ ان کے بقول، پاکستان کو اس اقدام کے باعث عالمی ایونٹس سے نکالنے پر غور کیا جانا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر بھی ردعمل شدت اختیار کر گیا ہے۔ متعدد صارفین نے پاکستانی فیصلے کو طنز و تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے کرکٹ میں غیر ضروری سیاسی مداخلت قرار دیا۔ کچھ صارفین نے بھارت کے لیے خوشی کا اظہار کیا کہ اب وہ پاکستان سے نہیں کھیلیں گے، جبکہ دیگر نے میچ نہ ہونے کی وجہ سے اقتصادی نقصان اور مالی اثرات پر بھی تبصرہ کیا۔ بھارتی تجزیہ کاروں نے آئی سی سی کی خاموشی اور بی سی سی آئی کے غیر واضح موقف پر بھی سوالات اٹھائے ہیں، کیونکہ ابھی تک کسی نے پاکستان کے اعلان پر باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔ یہ ردعمل ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ٹی20 ورلڈ کپ کے گروپ میچز اس وقت جاری ہیں اور دیگر ٹیمیں اپنے شیڈول کے مطابق کھیلنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ بھارتی میڈیا اور مبصرین کے مطابق پاکستان کا فیصلہ نہ صرف کرکٹ کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ اس سے ورلڈ کپ میں کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال بھی بڑھ رہی ہے۔ ادھر ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا یہ اقدام اصولی اور مساوی سلوک کی بنیاد پر ہے۔ ماضی میں بھارت نے متعدد مواقع پر پاکستان کے خلاف یکطرفہ اقدامات اور من مانی فیصلے کیے ہیں، جن میں شیڈول میں تبدیلی، ہوم گراؤنڈ کے میچز میں غیر مساوی رویہ، اور بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں پاکستان کے حق میں کم مواقع شامل ہیں۔اسی پس منظر میں پاکستان کا فیصلہ صرف موجودہ صورتحال کا ردعمل نہیں بلکہ گذشتہ غیر منصفانہ رویوں کے تسلسل کے خلاف اصولی موقف بھی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام پاکستان کے لیے لازم اور منطقی ہے، تاکہ عالمی کرکٹ میں مساوی سلوک کی مثال قائم ہو۔