• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بلوچستان میں، پنجابیوں کی طرح بلوچ اور پختونوں کا بھی جانی نقصان

اسلام آباد: (انصار عباسی)…بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے پھیلائے گئے بیانیے کے برعکس، سال 2025ء کے سرکاری اعداد و شمار دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ صوبے میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں مقامی بلوچ اور پختون عوام کو بڑی تعداد میں نشانہ بنایا گیا، جس سے اس تشدد کی بلا تفریق اور عوام دشمن نوعیت بے نقاب ہوتی ہے۔ 

بلوچستان حکومت کے ایک سینئر عہدیدار کی جانب سے دی نیوز کی درخواست پر فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، 2025ء کے دوران دہشت گردوں نے مقامی بلوچ اور پختون شہریوں پر 126؍ حملے کیے، جن میں 35؍ افراد شہید اور 51؍ زخمی ہوئے۔ 

اس کے برعکس آبادکاروں، بالخصوص پنجابیوں، کیخلاف 16؍ حملے کیے گئے، جن میں 52؍ افراد شہید اور 12؍ زخمی ہوئے۔ اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کا سب سے زیادہ نشانہ مقامی بلوچ اور پختون ہی بنتے رہے ہیں۔ 

ریلوے سروس بھی دہشت گردوں کے حملوں کی زد میں رہی، جہاں ٹرینوں پر 10؍ حملے کیے گئے، جن میں 29؍ افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہوا، رابطے کا اہم نظام متاثر ہوا اور روزگار، تعلیم اور علاج کی غرض سے سفر کرنے والے شہریوں کی جانوں کو خطرات لاحق ہوئے۔ 

سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق، فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکاروں پر سال کے دوران 330؍ حملے ہوئے، جن میں 184؍ اہلکار شہید اور 327؍ زخمی ہوئے۔ 

پولیس کو 134؍ حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جس میں 32؍ اہلکار شہید اور 123؍ زخمی ہوئے، جبکہ لیویز فورس پر 84؍ حملے کیے گئے، جن میں 17؍ اہلکار شہید اور 27؍ زخمی ہوئے۔ 

ذرائع کے مطابق، حملوں کا یہ انداز بلوچ دہشت گرد گروہوں کے اس جھوٹے نظریاتی دعوے کو بے نقاب کرتا ہے کہ وہ بلوچ حقوق کے محافظ ہیں۔ ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ یہ اعداد و شمار واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ دہشت گردوں کا نظریہ ہے نہ وہ کسی نسلی یا علاقائی شناخت میں تمیز کرتے ہیں۔ 

ان کے بقول، دہشت گرد یکساں سفاکی کے ساتھ بلوچوں، پختونوں، پنجابیوں، مزدوروں، مسافروں، پولیس اہلکاروں اور لیویز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، مقامی آبادی اور مقامی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر مسلسل حملوں نے دہشت گردوں کے اس دعوے کو مزید کمزور کیا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ 

اس کے برعکس، اس تشدد نے صوبے بھر میں خوف میں اضافہ کیا، روزگار کو متاثر کیا اور ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر پیدا کی ہے۔ اس صورتحال کے جواب میں صوبائی حکومت اور سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط اور حساس علاقوں کے تحفظ کو بہتر بنایا ہے۔ 

حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورکس کا خاتمہ اولین ترجیح ہے تاکہ امن بحال ہو سکے اور بلوچستان کے عوام کو تحفظ ملے، جو اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید