• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

موجودہ حکومت جعلی مینڈیٹ پر قائم، ایسی حکمرانی قبول نہیں، فضل الرحمٰن

اسلام آباد ( ایوب ناصر ، خصوصی نامہ نگار) جمعیت علمائے اسلام(ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے الزام لگایا ہے کہ 8فروری 2024ء کے انتخابات جعلی تھے، موجودہ حکومت جعلی مینڈیٹ پر قائم ہے اور جمعیت علمائے اسلام ایسی حکمرانی کو قبول نہیں کرتی،ہماری جنگ آئین اور اداروں سے نہیں لیکن چاہتے ہیں کہ قوم جس کو مینڈیٹ دے اس کا احترام کیا جائے، اتوار کو  منعقدہ یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھاکہ نوجوانوں کو جمعیت علمائے اسلام میں شمولیت کیلئے خوش آمدید کہتا ہوں  کنونشن سے سیکرٹری جنرل جے یو آئی مولانا عبدالغفور حیدری، سینیٹر مولانا عطا الرحمان ،تقریب کے میزبان فرخ کھوکھر نے بھی خطاب کیا،ایک ہزار نوجوانوں کی جمیعت علمائے اسلام میں شمولیت کا اعلان بھی کیا گیا ۔، انہوں نے کہا کہ 8 فروری دو سال پہلے اسی دن ملک میں الیکشن ہوئے جو نتیجہ سامنے آیا اس کو مسترد کردیا گیا ،جعلی قرار دیا گیا ،آج جو حکومت کررہے ہیں وہ جعلی مینڈیٹ پر کررہے ہیں، جمعیت علمائے اسلام ایسی حکومت کا حصہ نہیں ہوسکتی تھی اسی لیے اپوزیشن میں ہیں،انہوں نے کہا ساری دنیا کے سامنے ہے کہ فلسطین پر کیا گزری، غزہ کے مسلمانوں پر کیا گزری، تین سال ہوگئے ان پر آگ کی بارش ہورہی ہے ستر ہزار سے زائد مسلمان بھائی شہید ہوچکے، صیہونی روش جس کی پشت پر امریکا ہے، ظلم کی مدد امریکا نے کی ،بم ڈالر انکے ہیں ،افسوس ہے دنیا اس کو نسل کشی کہتی ہے اور ہمارا وزیر اعظم کہتا ہے ٹرمپ کو نوبل انعام ملنا چاہے،ایسی عقلمندی پر رونا آتا ہے، نوکری کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ،ان کا کہنا تھاکہ اگر ہم نے روش کو بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، جان لیں ہم بھی آپ سے دو قدم آگے ہونگے، آج وہی ٹرمپ غزہ کیلئے امن کا پلان لایا ،یورپی ممالک حصہ نہیں بن رہے، امن بورڈ کے اندر نتن یاہو شامل ہے۔
اہم خبریں سے مزید