• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایف آئی اے اب ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی کے سابقہ طالب علموں کا حاضری ریکارڈ چیک کرے گی

کراچی (اسد ابن حسن) ایف آئی اے کراچی میں اس وقت انکوائریز کی کمی کی وجہ سے اینٹی کرپشن کراچی کے انسپکٹر شاہد حسین ایک ایسی انکوائری میں شدومد سے مصروف ہیں جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ سرکل کو وصول اعجاز حسین شیخ کی درخواست پر انکوائری نمبر 95/25رجسٹر کی ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ برطانیہ میں موجود ڈاکٹر صدف شمیم جب 2005سے2009تک ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھیں تو اُن کی حاضری پوری نہیں تھی مگر اُس کے باوجود اُن کو امتحانات دینے دیئے گئے۔ اس سلسلے میں انکوائری افسر انسپکٹر شاہد حسین نے نہ صرف ڈاؤ یونیورسٹی کا 20سالہ ریکارڈ منگوایا اور اسٹاف سے انکوائری کی بلکہ ڈاؤ کے سابق وائس چانسلر اور دو ریٹائیرڈ پرنسپل حضرات کو طلب کیا اور سخت پوچھ گچھ کرنے کے بعد گرفتار کرنے کی دھمکیاں بھی دیں کیونکہ اُن حضرات کا مؤقف تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اس حوالے سے جب ایک سابقہ پرنسپل نے ریکارڈ کی بنیاد پر اپنا بیان لکھ کر شاہد حسین کو دینا چاہا تو انسپکٹر نے اُس کے مندر جات پر سخت اعتراض کیا اور یہ کہہ کر بیان کی کاپی لینے سے انکار کیا کہ آپ نے یہ کیوں لکھا کہ حاضری پوری تھی اور شکایت بے بنیاد ہے اور دھمکی دی کہ آپ کے خلاف ایف آئی آر ہو گی۔ اس حوالے سے تفتیشی افسر پولیس ڈیپوٹیشنسٹ انسپکٹر شاہد حسین نے فون پر بات کرنے اور میسج پڑھنے کے باوجود جواب دینے سے گریز کیا جبکہ سرکل سربراہ علی مردان کا کہنا تھا کہ سرکل میں بہت سی انکوائریاں ہوتی ہیں، مذکورہ انکوائری ان کے "علم میں نہیں"، مگر وہ دیکھیں گے۔
اہم خبریں سے مزید