• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

طلبہ یونین پر پابندی کے 42 برس مکمل، جمہوری حکومتیں الیکشن کرانے میں ناکام

کراچی( سید محمد عسکری) پاکستان میں 9 فروری کو طلبہ یونینوں پر پابندی کو 42 برس ہو گئے ہیں،جمہوری حکومتیں الیکشن کرانے میں ناکام نظر آتی ہیں۔ یہ پابندی نو فروری 1984 کو جنرل ضیا الحق نے نوجوانوں کو جمہوری حق سے محروم رکھنے اور اختلاف رائے کو دبانے کے لیے عائد کی تھی اور اس نے اس مقصد کے لیے جنرل مارشل لاء ضابطہ 60جاری کرکے طلبہ کو جمہوری عمل سے باہر کردیا تھا لیکن اس کے بعد پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن تحریک انصاف کی حکومتیں آتی رہی لیکن یونینز کی بحالی اور ان کے الیکشن کرانے کا وعدہ کسی حکومت نے پورا نہیں کیا۔ سندھ میں 18برس سے مسلسل برسراقتدار پیپلز پارٹی نے اسمبلی سے طلبہ یونین بحال کرنے کا بل تو پاس کرلیا مگر الیکشن کرانے سے قاصر رہی پیپلز پارٹی کی حکومت کے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے قبل قومی اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران ججوں کی رہائی کے ساتھ ہی 100؍ روز کے اندر طلبہ یونین کو بھی بحال کرنے کا وعدہ کیا لیکن ججز تو بحال ہوئے مگر طلبہ یونین کی بحالی میں کوئی پیشرفت نہ ہوئی۔ آصف زرداری نے دو بار صدر مملکت کا عہدہ سنبھالا لیکن وہ بھی اس معاملے پر کوئی کردار ادا نہ کرسکے۔ تحریک انصاف کی خیبر پختون میں مسلسل یہ تیسری حکومت ہے لیکن تمام تر جمہوری دعوؤں کے باوجود وہ طلبہ یونین کے انتخابات نہیں کراسکی ہے۔ سیاسی پارٹیاں 18ویں ترمیم کی منظوری کے بعد 73ء کا آئین بحال کرنے کا کریڈٹ لے رہی ہیں لیکن اس میں بھی طلبہ یونینز کی بحالی کا ذکر یا شق سرے سے موجود نہیں ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ جب طلبہ یونیینوں پر پاپندی کے لیے جمہوری حکومتیں ناراض ہوئیں تو طلبہ عدالت چلے گئے جہاں گزشتہ ہفتے سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے طلبہ یونین کی بحالی سے متعلق درخواست جرمانے کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو 10 ہزار روپے جرمانہ سندھ ہائی کورٹ کے کلینک مین جمع کروانے کا حکم دیا۔ معزز جج نے کہا کہ تعلیم پہلے ہی تباہ ہے، آپ اور کیوں برباد کرنا چاہتے ہیں؟ طلبہ یونین کا کیا مقصد اور فائدہ ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ یونین کا مقصد طلبا کو پالیسی سازی میں نمائندگی فراہم کرنا ہے۔ عدالت نے درخواست جرمانے کے ساتھ مسترد کردی اور درخواست گزار کو 10 ہزار روپے جمع کروانے کا حکم دیا۔طلبہ تنظیموں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور ماہرینِ تعلیم کے مطابق اس فیصلے کے فوری اور طویل المدتی اثرات نہایت گہرے ثابت ہوئے۔ تعلیمی اداروں میں منتخب نمائندگی کا خاتمہ ہوا، طلبہ مسائل کے حل کے لیے منظم فورم سے محروم ہو گئے اور قیادت سازی کا وہ قدرتی عمل منقطع ہو گیا جو یونینز کے ذریعے پروان چڑھتا تھا۔ ناقدین یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ یونینز پر پابندی کے بعد غیر رسمی گروہ بندی، تشدد اور طاقت کے غیر جمہوری مراکز نے خلا پُر کیا، جس سے تعلیمی ماحول مزید بگڑا۔سیاسی مبصرین کے مطابق 9 فروری 1984 کا فیصلہ محض ایک انتظامی حکم نہیں تھا بلکہ یہ ریاست اور نوجوانوں کے درمیان سماجی معاہدے میں یکطرفہ تبدیلی کے مترادف تھا۔ اس پابندی نے ایسی نسلوں کو جنم دیا جو عملی سیاست، مکالمے اور اجتماعی فیصلوں کی تربیت سے محروم رہیں—اور یہی خلا بعد ازاں قومی سیاست میں بھی محسوس کیا گیا۔چار دہائیاں گزرنے کے باوجود طلبہ یونینز کی بحالی کا مطالبہ وقفے وقفے سے زور پکڑتا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر جمہوریت کو جڑوں تک مضبوط کرنا مقصود ہے تو تعلیمی اداروں میں منظم، ضابطہ بند اور منتخب طلبہ سیاست کی واپسی ناگزیر ہے—تاکہ اختلاف کو تشدد کے بجائے مکالمے اور نمائندگی کے ذریعے حل کیا جا سکے۔
اہم خبریں سے مزید