• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملک ’خاموس مارشل لاء‘ کی لپیٹ میں، جمہوریت زوال پذیر، عاصمہ جہانگیر کانفرنس اختتام پذیر

لاہور (آصف محمود بٹ،عمران احسان) چھٹی عاصمہ جہانگیر کانفرنس اتوار کو اس غیر معمولی تنبیہہ کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے ایک ایسے غیر اعلانیہ اور بتدریج نافذ ہونے والے ’’خاموش مارشل لا‘‘ یا ’’creeping coup‘‘ کی لپیٹ میں ہے جس نے جمہوریت، پارلیمان، عدلیہ، شہری آزادیوں اور آئینی بالادستی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔  صوبوں کو وسیع اختیارات حاصل ،،رانا ثناء، بلوچ عوام کا وجود خطرےمیں، ڈاکٹر عبدالمالک،اخترمینگل،افراسیاب خٹک،  طالبان نےعاہدوں کی پاسداری نہیں کی، بلال اظہر ، ارلیمان وسائل پر مقامی حقِ ملکیت کا اعلان کرے،محموداچکزئی  و  دیگر  کا اظہار خیال ، مقررین نے کہا کہ 2018 کے عام انتخابات سے شروع ہونے والا یہ عمل 2024 کے انتخابات کے بعد مزید گہرا ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں ریاستی اداروں کے درمیان توازن بگڑ چکا ہے اور عوامی مینڈیٹ مسلسل پامال ہو رہا ہے۔کانفرنس کے دوسرے اور آخری روز اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر سیاستدان اور سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا کہ 2008 میں ایک نسبتاً مضبوط، خودمختار اور نمائندہ پارلیمان وجود میں آئی تھی تاہم 2018 اور پھر 2024 کے انتخابات میں منظم دھاندلی کے ذریعے اس جمہوری پیش رفت کو مکمل طور پر سبوتاژ کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان انتخابات نے نہ صرف عوام کے ووٹ کی حرمت کو پامال کیا بلکہ غیر منتخب قوتوں کو سیاسی نظام پر بالادست بنا دیا، جس کے نتیجے میں پارلیمان محض ایک رسمی ادارہ بن کر رہ گئی ہے۔افراسیاب خٹک کی بات کی تائید کرتے ہوئے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے خیبرپختونخوا میں internment senators کے قیام اور ان کے تسلسل کو آئین، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے منافی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایکشن ان ایڈ آف سول پاور آرڈیننس کے ذریعے ماورائے عدالت گرفتاریوں اور طویل حراستوں کو قانونی تحفظ دیا گیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس آرڈیننس کے خلاف ان اور افراسیاب خٹک کی جانب سے دائر آئینی درخواست گزشتہ چھ برسوں سے سپریم کورٹ میں سماعت کے بغیر زیر التوا ہے، جو خود عدالتی نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ درخواست کو فوری طور پر سنا جائے اور سوات انٹرنمنٹ سینٹر میں قید افراد کے نام، حیثیت اور الزامات قوم کے سامنے لائے جائیں۔کانفرنس کے مختلف سیشنز اور مباحثوں میں انسانی حقوق کے کارکنان اور سیاسی رہنماؤں ماہ رنگ بلوچ، علی وزیر، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔
اہم خبریں سے مزید