• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چیک باؤنس کیس، بھارتی اداکار راج پال یادو کو تہاڑ جیل بھیج دیا گیا

کراچی (رفیق مانگٹ) بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف کامیڈین اور ہیرا پھیری جیسے مقبول فلمی کرداروں سے شہرت پانے والے اداکار راج پال یادو کے لیے بھارتی عدالت عالیہ دہلی کا فیصلہ محض ایک قانونی حکم نہیں بلکہ مالی بدعہدی، عدالتی نرمی کے غلط استعمال اور وعدہ خلافی کی ایک طویل کہانی کا منطقی انجام بن گیا۔بھارتی عدالت نے بھارتی اداکار راج پال یادو تہاڑ جیل بھیج دیا۔ دہلی ہائی کورٹ نے مزید مہلت مسترد کر دی ،عدالتی نرمی کا غلط استعمال بے نقاب،سات چیک باؤنس، عدالت نے ہر کیس میں 1.35 کروڑ ادا کرنے کا حکم دیا،تہاڑ جیل کے حکام اور قانونی ماہرین نے وضاحت کی ہے کہ ان کی مستقبل میں رہائی واجبات سے مشروط ہے۔ چیک باؤنس کے متعدد مقدمات میں سزا یافتہ اداکار کو مزید مہلت دینے سے انکار کے بعد تہاڑ جیل میں خود سپردگی کرنا پڑی، جس نے شوبز اور قانونی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابقراج پال یادو نے جمعرات دوپہر دہلی کی تہاڑ جیل کے حکام کے سامنے خود کو قانون کے حوالے کیا، جب دہلی ہائی کورٹ نے ان کی وہ درخواست مسترد کر دی جس میں انہوں نے سزا معطلی کے تحت دی گئی خود سپردگی کی مدت میں مزید ایک ہفتے کی توسیع مانگی تھی۔ عدالت نے واضح کیا کہ اداکار کو پہلے ہی متعدد مواقع دیے جا چکے ہیں اور اب مزید نرمی کی کوئی گنجائش نہیں۔یہ معاملہ دراصل 2010 سے جڑا ہے، جب راج پال یادو اور ان کی اہلیہ پر فلم اتا پتا لاپتا کی تیاری کے لیے مورالی پراجیکٹ سے پانچ کروڑ روپے قرض لینے کا الزام لگا۔ کمپنی کے مطابق اداکار نے آٹھ کروڑ روپے واپس کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، تاہم بعد ازاں یہ رقم سات کروڑ پر طے پائی۔ اس ادائیگی کے لیے جاری کیے گئے سات چیک باؤنس ہو گئے، جس کے بعد فوجداری مقدمات درج کیے گئے۔عدالتی ریکارڈ کے مطابق، سات الگ الگ مقدمات میں راج پال یادو کو فی کیس 1.35 کروڑ روپے ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔
اہم خبریں سے مزید