کرپٹو کرنسی ایک قسم کی ڈیجیٹل یا ورچوئل کرنسی ہے، جو سیکیورٹی کے لیے کرپٹوگرافی استعمال کرتی ہے، یہ کسی مرکزی بینک یا حکومت کے کنٹرول کے بجائے ایک غیر مرکزی نظام پر کام کرتی ہے، جسے بلاک چین کہتے ہیں، جو ایک عوامی، غیر تبدیل شدہ لیجر ہے، اس میں تمام لین دین محفوظ کیے جاتے ہیں۔
بٹ کوائن پہلی اور سب سے مشہور کرپٹو کرنسی ہے اور طاعداد و شمار کے مطابق آج کل سب سے زیادہ تجارت کیے جانے والے مالیاتی اثاثوں میں سے ایک ہے۔ اس کی خصوصیات یہ ہیں کہ یہ کاغذی کرنسی کی طرح نظر نہیں آتی،اس پر کسی مرکزی ادارےمثلاً بینک یا حکومت کا کنٹرول نہیں۔
ہر لین دین، بلاک چین ٹیکنالوجی کے محفوظ، خفیہ شدہ ڈیجیٹل ریکارڈ میں محفوظ اور دنیا بھر کے کمپیوٹرز پر موجود ہوتا ہے۔ پچھلے چند برسوں سے کرپٹوکرنسی کے حوالے سے بڑا شور و غوغاہےکہ اس کے استعمال سے دنیا کے ترقی پذیر ممالک کی غربت بہت کم عرصے میں ختم کی جاسکتی ہے۔
پاکستان بھی اُن چند ممالک میں شامل ہے، جہاں بہت سے لوگ اس بات کے قائل ہیں اگر پاکستان میں کرپٹوکرنسی لانچ کردی جائے، تو نہ صرف پاکستان کے تمام قرضے اترجائیں گے، بلکہ ملک بھی تیزی سے خوش حالی کی طرف بڑھے گا۔
اس مفروضے میں کتنی سچائی ہے، آئیے، اس حوالے سے پہلے چند امور کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ بات بہ آسانی سمجھ آسکے۔ اگرچہ بادی النظر میں کرپٹوکرنسی ایک غریب ملک کو امیر، خوش حال بنا سکتی ہے، مگر اسے جادو کی چھڑی ہرگز قرار نہیں دیا جاسکتا کہ جسے گُھماتے ہی تمام معاشی مسائل یک دم حل ہوجائیں گے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ کرپٹوکرنسی جہاں ایک غریب ملک کو امیر کر سکتی ہے، وہیں غریب مُلک کو مزید غربت میں بھی دھنسا سکتی ہے۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ اسے کس طرح اپنایا اور نافذ کیا جاتا ہے۔
بےشک کرپٹوکرنسی کے بےشمار فوائد ہیں، مگر ساتھ ہی اس ضمن میں کئی بڑے چیلنجز بھی ہیں اور اگر ان چیلنجز سے بخوبی نمٹا نہیں گیا، تو کرپٹوکرنسی سے حاصل ہونے والے فوائد نہ صرف ضائع ہوسکتے ہیں، بلکہ لگایا گیا سرمایہ اور محنت بھی برباد ہوجائے گی۔
ڈیجیٹل لٹریسی: کرپٹوکرنسی کے پھیلاؤ اور نظامِ تعلیم کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔ کسی ملک کے عوام ڈیجیٹل لٹریسی کے بغیر، کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کر ہی نہیں سکتے۔کیوں کہ ڈیجیٹل سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگ ہی ’’ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم‘‘ اختیار کرسکتے ہیں۔
وہی کرپٹوکرنسی کے کاروبار میں چُھپے خطرات اور فوائد کو سمجھتے ہیں۔ غریب، ترقی پزیر ممالک کے عوام، کرپٹوکرنسی میں کشش تو بہت محسوس کرتے ہیں، مگر اسے محفوظ طریقے سے استعمال کرنے کا شعورنہ ہونےکی وجہ سے اس میں لین دین سے ڈرتے ہیں۔
مالیاتی شمولیت: مالیاتی شمولیت سے مراد کسی ملک میں زیادہ سے زیادہ آبادی کو مالیاتی خدمات (بینک، انشورنس، رقم کی ادائی و ترسیل، قرضے کی فراہمی وغیرہ) تک بہ آسانی رسائی فراہم کرنا ہے۔ 2025ء کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے91ملین افراد باضابطہ بینک اکاؤنٹس رکھتے ہیں۔
اگرچہ پاکستان کے بڑے شہروں میں عام لوگوں کی بینک تک رسائی عام سی بات ہے، لیکن چھوٹے شہروں، خصوصاً گاؤں دیہات میں بینکنگ سسٹم برائے نام ہونے کے سبب اُن علاقوں کے لوگ، رقوم کی ترسیل کے لیے بینکس کے بجائے ’’برانچ لیس بینکنگ‘‘ یعنی ’’ایزی پیسا‘‘ جیسی سہولتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، کیوں کہ یہ سہولت روایتی بینکنگ سسٹم کی محتاج نہیں،محض ایک اسمارٹ فون اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت سے رقوم کی بہ آسانی ترسیل ممکن ہے۔ایسے میں کرپٹو ہمارے یہاں تیزی سے فروغ حاصل کرسکتی ہے۔
تاہم، ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر قوانین نہ بنائے گئے یا درست طریقے سے نافذ نہ کیے گئے، تو یہ ملک سے زرِ مبادلہ کے انخلاء کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ مجموعی طور پر، کرپٹو میں مالیاتی شمولیت لانے کی صلاحیت ہے، لیکن اس کے فوائد کے ساتھ ساتھ خطرات سے بچنے کا انتظام اور مناسب ریگولیشنز کا نفاذ بہت ضروری ہے۔
ٹیکنالوجی اور نئے روزگار: کرپٹو کرنسی کی بنیاد ہی جدید ٹیکنالوجی پر ہے۔ کرپٹوکرنسی میں بلاک چین ٹیکنالوجی کی وہی اہمیت ہے، جو انسانی جسم میں ریڑھ کی ہڈی کی۔
اس کرنسی سے ٹیکنالوجی کی دنیا میں روزگار کے نئے نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں، جنھیں آج سے دس سال پہلے تک کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ مثلاً بلاک چین ٹیکنالوجی کے ماہرین، کسی بھی کمپنی کے لیے بلاک چین سسٹم تشکیل دے کر اس سسٹم کو چلا سکتے ہیں۔ سیکوریٹی ماہرین، اس کے تحت لین دین کو محفوظ اور صارف کو ہیکرز سے بچاسکتے ہیں۔
ترسیلاتِ زر: روایتی بینکنگ سسٹم کی نسبت کرپٹوکرنسی میں رقم کی ترسیل کی رفتار انتہائی تیز ہے، کیوں کہ اس نظام میں کوئی درمیانی واسطہ (بینک) شامل نہیں، تو رقم کی ترسیل عام روایتی طریقوں کی نسبت فوری ہوتی ہے۔ روایتی بینکس میں بہت سے قاعدے، قوانین لاگو ہوتے ہیں نیز، کاغذی کارروائی بھی ہوتی ہے، جس میں وقت لگتا ہے۔
اس کے برعکس کرپٹوکرنسی میں نہ لمبی چوڑی کاغذی کارروائی ہے اور نہ ہی قوانین کی بھرمار۔ عام روایتی بینکس سے رقوم کی ترسیل میں کئی بینکس انوالو ہوتے ہیں، جب کہ کرپٹوکرنسی میں لین دین، براہ ِ راست رقم بھیجنے اور وصول کرنے والے کے درمیان ہوتا ہے۔
منہگائی کے خلاف مضبوط ڈھال: غریب ممالک کے لیے شدید افراطِ زر ایک بڑا مسئلہ ہے۔ دنیا کے کچھ ممالک مثلاً ایران، زمبابوے اور وینزویلا وغیرہ میں جہاں منہگائی کی شرح انتہائی بلند ہے، مقامی کرنسی مستقل سخت مندی کا شکار رہتی ہیں۔ وہاں لوگ ایسی کرنسی کا سہارا ڈھونڈ رہے ہیں، جو مستحکم ہو۔اور کرپٹوکرنسی میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ منہگائی کے خلاف ایک مضبوط ڈھال بن سکتی ہے، کیوں کہ روایتی کرنسی کے برعکس کرپٹوکی عالمی منڈیوں تک رسائی زیادہ ہے۔
اسی لیے بہت سے ممالک اسے اپنانے میں دل چسپی لے رہے ہیں۔ تاہم، ترقی پزیر اور پس ماندہ مُمالک کا المیہ یہ ہے کہ اُن کے عوام اور حکومتیں دونوں اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ اگر اُن کے یہاں ایک بار کرپٹوکرنسی رائج ہوگئی، تومحض چند روز میں مُلک کی ساری غربت خوش حالی میں بدل جائے گی، ہر فرد امیر ہوجائے گا۔
یاد رکھیں، اگر کسی مُلک کا انفرااسٹرکچربہتر نہیں، تیز رفتار، ہر پَل دست یاب انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں، بجلی کی مسلسل فراہمی اور مضبوط سائبر سیکیورٹی کا نظام فعال نہیں، نیز، عوام میں ڈیجیٹل لٹریسی ہی نہیں ،تو کرپٹوکرنسی ایسے مُلک کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکے گی۔
چوں کہ امریکا، یورپ، جاپان، متحدہ عرب امارات وغیرہ کو پہلے ہی ایک مضبوط انفرااسٹرکچر دست یاب تھا، اس لیے ان ممالک میں یہ فائدہ مند ثابت ہورہی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ ایل سلوا ڈور اور سینٹرل افریقن ری پبلک جیسے ممالک بھی اگرچہ اپنے یہاں کرپٹوکرنسی رائج کرچکے ہیں، مگر ہنوز معاشی خوش حالی سے دُور ہیں۔
پاکستان میں کرپٹو کرنسی: ملکی قوانین کے باعث فی الحال پاکستان میں کرپٹوکرنسی پر سرکاری طور پرپابندی ہے اور اسے لانچ کرنے میں بھی کچھ چیلنجز درپیش ہیں۔پھر بدقسمتی سے پاکستان میں ٹیکسز کی بھرمار ہے، تو اگر کرپٹوکرنسی پر بھی کئی ٹیکس عائد کردیئے گئے، توایسے میں عام شہری کرپٹو میں سرمایہ کاری سے گھبرائے گا۔ تاہم، اس حوالے سے ایک اچھی خبر یہ ہے کہ حال ہی میں پاکستان اور ورلڈ لبرٹی فنانشل کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو گئے ہیں۔
علاوہ ازیں، وزارت خزانہ اور ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز ایل ایل سی کے درمیان بھی ایک معاہدہ ہوا ہے،جس کے تحت ورلڈ فنانشل لبرٹی پاکستان میں ڈیجیٹل پیمنٹس پر شراکت داری کرے گی اور پاکستان میں ’’کراس بارڈر ڈیجیٹل‘‘ ادائیگیوں پر تعاون کا آغاز ہوگا۔ یادداشت پر دستخط اور معاہدے کے بعد حکومت نے عالمی فن ٹیک اداروں کے ساتھ تعاون بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
تاہم، کرپٹو کرنسی جیسے سائنسی اور معاشی رجحانات ملکی مفاد میں صرف اُسی وقت مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں، جب مضبوط، شفّاف اور عوامی مفاد پر مبنی ادارہ جاتی ڈھانچے کے تحت انھیں منظّم کیا جائے۔ بہ صُورتِ دیگر یہ سرمایہ داری کی ایک نئی شکل بن کر قومی معیشت میں عدمِ مساوات اور عدمِ استحکام کو مزید بڑھائیں گے۔ حکومت کو اس معاملے پر ماہرین سے مشاورت کرنی چاہیے، کیوں کہ یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے، جو کسی حتمی فیصلے سے پہلے تفصیلی غور و فکر اور مناسب مشاورت کا متقاضی ہے۔