• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

اپنا کیا بنے گا…؟

رسالہ موصول ہوا۔ سرِورق کی خُوب رُو ماڈل کو دیکھتے ڈاکٹر حافظ محمّد ثانی کی محفل میں حاضر ہوگئے، جو تعلیماتِ نبویؐ اور اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی درخشندہ روایت کے روحانی بیان سے قلب و رُوح منوّر کررہے تھے۔ ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا نے عالمی طاقتوں کے مابین تعاون، باہمی اختلافات کا تذکرہ بڑی عرق ریزی سے کیا۔ 

ہم تو دو کشتیوں کے سوار ہیں۔ سو، ہمیں بڑی حکمتِ عملی سے توازن برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ ملک عصمت اللہ، میانوالی کی بڑھتی آبادی، تعلیم، صحت اور دیگر شعبہ جات کی مشکلات پر فکرمند تھے۔ بھائی! پاکستان کے ہر شہر کا یہی حال ہے۔حکومت اور اشرافیہ کو اپنے مفادات اور اللّے تللّوں ہی سے فرصت نہیں۔ سیّدہ تحسین عابدی ای چالان کی افادیت بیان کررہی تھیں، کاش! انہیں کراچی کے شہریوں کی چیخیں بھی سنائی دیں کہ وہ کس آزار سے گزر رہے ہیں۔ 

ڈاکٹر اعظم لودھی ذیابطیس کے مریضوں کو پاؤں کی دیکھ بھال کا مشورہ دے رہے تھے۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں شائستہ اظہر صدیقی نے اچھا رائٹ اَپ تحریر کیا، ماڈل بھی بھلی لگی۔ عرفان جاوید، نیلم احمدبشیرکا تقسیم کے فسادات پر مبنی ’’قیمتی‘‘ افسانہ لائے۔ ڈاکٹرمحمد زوہیب نے مطالعۂ تاریخِ اسلام سے اصلاحی کام لینے کی ضرورت پرزور دیا۔ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ میں ڈاکٹر تبسّم سلیم، زاہد احمد خان اور ڈاکٹر حنا شاہد نے اپنے اپنے بزرگوں کے اوصاف بیان کیے۔ 

ارسلان اللہ خان ارسل کا منظوم ’’خطبۂ حجتہ الوداع‘‘ لائقِ ستائش ٹھہرا۔ اپنے میگزین میں تو ڈاکٹروں کی بھرمار ہوگئی ہے۔ ’’بھائی محمّد سلیم راجا! اپنا کیا بنے گا؟؟ اپنے صفحے کی فکر کر بھائی، کہیں ہم بھی ناقابلِ اشاعت ہی نہ ٹھہریں۔‘‘ اگلے شمارے میں ڈاکٹر حافظ محمّد ثانی، تعلیماتِ نبویؐ کی دوسری قسط لائے۔ نام وَر سیرت نگاروں نے یہ کہہ کرقلم رکھ دیا کہ ’’بعد از خدا بزرگ توئی از قصّہ مختصر‘‘۔ ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا رقم طرازتھےکہ اگر افغانستان نے دہشت گردوں کو لگام نہ دی تو پاکستان حقِ دفاع استعمال کرے گا۔ 

حافظ بلال بشیر خواتین پر ہونے والے دل دوز مظالم کی رُوح فرسا کہانی سنا رہے تھے۔ رفیع اللہ مندوخیل چلغوزوں کی قیمت میں کمی کا مُژدہ لائے۔ برسوں بیت گئے، ہم جیسے غریب غرباء کو چلغوزے کھائے۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں ڈاکٹر سکندر اقبال اور ڈاکٹر امیر حسن سگریٹ نوشی، پان، گٹکا، چھالیا کے نقصانات سے آگاہ کررہے تھے۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں ثانیہ انور نے’’ذکر اس پری وش کا اور پھر بیان اپنا…‘‘ لکھ کرکمال ہی کردیا۔

منور راجپوت کا ’’انٹرویو‘‘ پسند آیا۔ بے شک، ہمیں لیاری یونی ورسٹی کے وائس چانسلرجیسے کارسازوں ہی کی ضرورت ہے۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں سعد علی چھیپا ڈائٹنگ کی کڑی آزمائش کا احوال، قاضی جمشید عالم دودھ، کھجور کے ایک ساتھ استعمال کے فوائد بتا رہے تھے اور ہمارے صفحے میں محمّد سلیم راجا کی چٹھی نے دھوم ڈالی ہوئی تھی۔ دو جرائد پر تبصرے کی وجہ یہ ہے کہ آج کل شادی بیاہ کا سیزن ہے اور ہم چوں کہ نکاح خواں بھی ہیں اورایک مسجد کی امامت وانتظام کی ذمّے داری بھی کاندھوں پر ہے، تو وقت بمشکل ہی ملتا ہے۔ (شہزادہ بشیر محمّد نقش بندی، میرپورخاص)

ج: وقت نہ ملنے کے باوجود آٹھ آٹھ صفحات پر محیط تبصرے؟ اورآپ کا اور سلیم راجا صاحب کا اب اس عُمر میں مزید کیا بننا ہے، ہمارا خیال ہے جو بننا، بنانا تھا، وہ بن چُکا۔

وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے…

اللہ رب العزت کے حضور دُعا ہے کہ وہ آپ پر ہمیشہ مہربان رہے، آنے والے دِنوں میں ڈھیروں ڈھیرخوشیاں عطا فرمائے۔ منور راجپوت کا فیچر ’’اخبار والا‘‘ بہت ہی دل چسپ اور معلوماتی تھا۔ وطنِ عزیز کے سب سے گنجان آباد شہر کراچی کی، جسے پاکستان کا معاشی حب اور پڑھے لکھے لوگوں کا شہر کہا جاتا ہے، حالت یہ ہے کہ ڈھائی ہزار نیوزپیپر اسٹالز میں سے صرف ساٹھ باقی رہ گئے، تو دیگر شہروں کی صورتِ حال مزید ابتر ہوگی۔ ہمارے شہر شیخوپورہ میں بھی آج سے دس بارہ سال قبل کئی ایک ہاکرز سائیکل پراخبار فروخت کرتے نظر آتے اور ’’آج کی تازہ خبر‘‘ کی آواز لگا کے سب کو متوجّہ کرتے۔

آج پورے شہر میں بس تین چار اسٹالز ہی دکھائی دیتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد ریاض علیمی کے مضمون بعنوان ’’حقوقِ نسواں‘‘ میں دینِ اسلام اورمغربی تہذیب کا خُوب موازنہ کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ اہلِ مغرب نے عورت کو بازار کی جنسِ ارزاں بناکر رکھ دیا ہے۔ ’’مالِ مفت‘‘ کے عنوان سے نظیر فاطمہ کا ’’افسانچہ‘‘ متاثرکُن اور حقیقی صورتِ حال کا آئینہ دار تھا۔ 

ماں جی نے’’اس ہفے کی چٹھی‘‘ پڑھ کر کہا کہ’’حافظ جی!‘‘ ایڈیٹر صاحبہ نے ’’آپ کا صفحہ‘‘ کے پانچ خوش خط مکتوب نگاروں میں آپ کا نام بھی شامل کرکے آپ کو ایک اور شان دار اعزاز بخشا ہے۔‘‘اللہ، اللہ وہ ہوئے ہم سے ہم کلام، اللہ اللہ، بہت بہت شکریہ۔ یہ تو آپ کا حسنِ ظن اور نگاہ کا حُسن ہے۔ 

نیز، آپ کی دل کش ایڈیٹنگ کا کمال کہ ایک عام سے نوآموز قاری کو رونقِ محفل بھی قرار دیا اورخوش خط مکتوب نگاروں کی صف میں بھی لا کھڑا کیا۔ ؎ وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے۔ ناچیز کی طرف سے آپ سمیت تمام جملہ اسٹاف ممبران کے لیے دلی دُعائیں۔ (حافظ عُمرعبدالرحمٰن ڈار، ہرن مینار روڈ، شیخو پورہ)

ج: آپ کی والدہ کا اندازِ تخاطب ہی بتاتا ہے کہ ماشاء اللہ آپ کی تربیت کس گود اور کن ہاتھوں میں ہوئی ہے۔ تعلیم و تربیت، تہذیب و شائستگی آپ کے طرزِ تحریر سے بھی جھلکتی ہے، بے شک، عاجزی و انکساری، کسرِنفسی اعلیٰ اوصاف ہیں، لیکن ہمارے خیال میں آپ کا، خُود کو اس طور انڈرایسٹیمیٹ کرنا بھی مناسب نہیں۔

ملبوسات ہی کی طرح حسین

تعلیماتِ نبویؐ اور اسوہ رسولؐ پر ڈاکٹر حافظ محمّد ثانی کی تحقیق قابلِ توجّہ اور قابلِ صد ستائش ہے۔ منور مرزا کا موضوع ’’عالمی طاقتوں کے مابین تعاون اور مقابلے کی دوڑ‘‘ پڑھ کر ایک جملہ یاد آگیا کہ طاقت وَروں کی لڑائی میں ہمیشہ کم زور ہی کچلے جاتے ہیں۔ میانوالی کی بڑھتی آبادی پر ملک عصمت اللہ نے خُوب لکھا۔ ویسے کون سا شہر ہے، جس کی آبادی تیزی سے نہیں بڑھی۔ 

آپ کسی بھی شہر کا جائزہ لے لےلیں، کئی کلومیٹر دُور سے آبادی شروع ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ زرعی زمین ختم ہورہی ہے، ہاؤسنگ اسکیمزبن رہی ہیں، جو بڑھتی آبادی کی نشانی ہیں۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں ڈاکٹر سکندر اقبال کا ’’بڑھاپا، زندگی کا متوازن سفر‘‘ اور ڈاکٹر عظیم لودھی کا ’’ذیابطیس اورپائوں کی دیکھ بھال‘‘ دونوں ہی اہم موضوعات تھے۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں شائستہ اظہر صدیقی نے کیا ہی خُوب صُورت تحریر لکھی، خصوصاً آخر میں لکھا جملہ تو ملبوسات ہی کی طرح حسین تھا کہ ’’رشتوں کی بنیاد میں کئی رنگ شامل ہوتےہیں، مگر سب سے گہرا، پائےداراور باوقار رنگ وفاداری کا ہے۔‘‘ 

نئے افسانے ’’قیمتی‘‘ کی پہلی قسط، دوسری آنےکےبعد ہی پڑھیں گے۔ ڈاکٹر افضل کمیانہ کی تحریرکا موضوع منفرد تھا۔ ڈاکٹرزوہیب حنیف اور ملک ذیشان عباس نے بھی عُمدہ لکھا۔ نیز، اِس دفعہ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ میں معالج اور معلمہ جیسے عظیم رشتوں پر بہترین تحریریں لکھی گئیں، جن سے اندازہ ہوا کہ رشتہ صرف خون ہی کا نہیں، انسانیت کا بھی ہوتا ہے۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں مریم شہزاد کی ’’جوڑ‘‘ پسند آئی اورڈاکٹرعلی اعظم کی مختصر تحریر ’’بند دروازوں کا سفر‘‘ کا بھی جواب نہ تھا۔ (رانا محمد شاہد، گلستان کالونی، بورے والا)

راجا کی جگہ چاچا!!

دسمبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی ایک بےنام سی خاموشی، ویرانی، خشکی قدم جمانا شروع کردیتی ہے، جب کہ اس سال تو ایک اور ویرانی ’’اسموگ‘‘ نے بھی پنجاب کے بعد ہمارے شہر میں بھی رنگ دکھانا شروع کردیا۔ دوسری طرف حکومتی اخراجات، عیاشیاں، رنگ رلیاں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتیں۔ ایسا لگتا ہے، ہر ادارے کی یہ ذمّےداری لگادی گئی ہے کہ جیسے بھی ممکن ہو، پتلی گردن والے عوام کو الجھا کے رکھا جائے تاکہ حکومتی عیاشیوں کا مزہ کرکرا نہ ہو۔ 

یہ تو شُکر ہے، ہمارے ’’سنڈے میگزین‘‘ میں اِن کا کچھ زیادہ عمل دخل نہیں۔ 2025ء کے ابتدائی تین چارمیگزین دیکھ کر ہی اندازہ ہوچلا تھا کہ اب تحریروں کے معیار کے ساتھ ساتھ لے آؤٹ، تصاویر کے انتخاب اور کلر سلیکشن پر بھی خصوصی توجّہ دی جارہی ہے۔ لوگ کہتے ہیں، پرنٹ میڈیا ختم ہورہا ہے، ہمیں تو قارئین کی تعداد بڑھتی معلوم ہوتی ہے۔ 

یوں تو جریدے کے بیش تر سلسلوں، صفحات میں بھرپوردل چسپی برقرار رہی، لیکن کچھ لکھاریوں کی آمد بھی خاصی خوش کُن ثابت ہوئی، مثلاً محمود میاں نجمی اور عرفان جاوید نیز، ’’آپ کا صفحہ‘‘ کے محمد سلیم راجا۔ ویسے جب تک اُن کا دیدارنہ ہوا تھا، تو ہم نےذہن میں اُن کی ایک تصویر بنا رکھی تھی اور ان کے لیے کسی حسین سی رانی کے انتخاب کا بھی سوچ رہے تھے، مگر پھر راجا جی نے دیدارِ شوق کی تکمیل کردی۔ پتا چلا کہ وہ تو ہماری طرح ’’سلیم چاچا‘‘ ہیں۔ ہماری مانیں، اب آپ بھی راجا کی جگہ چاچا ہی کا استعمال شروع کردیں۔ (چاچا چھکن، گلشنِ اقبال، کراچی)

ج: اور آپ ہماری مانیں، چاچا چھکن کے بجائے’’دادا چھکن‘‘ کے نام سے لکھنا شروع کردیں کہ آپ کے ایک شاگردِ رشید، ہمیں آپ کی بھی ایک عدد تصویر ارسال کرچُکے ہیں۔

         فی امان اللہ

اس ہفتے کی چٹھی

یہ تو ہمارے دل کے سیدھے سادے افسانے تھے، جو مدیرہ کی نگاہوں کی زباں تک پہنچ گئے۔ غلطی البتہ ہم سے یہ ہوئی، جو بھول بیٹھے کہ اب کہ جو بات نکلی ہے، وہ جانے کہاں کہاں تک پہنچے اور پھر بات یوں پہنچی۔ نہ رپورٹ، نہ مقدمہ، نہ کارروائی بلکہ براہِ راست فردِ جرم عائد۔ یعنی فارم 45 یا 47 والی فتح۔ شہزادہ صاحب نے تو بقول مومن ثاقب، ’’وقت بدل دیا، جذبات بدل دیے،حالات بدل دیے۔‘‘ بات یہاں ختم نہیں ہوئی،صفدرصاحب نےاتنی ذرا سی بات پر نہ صرف عوامی ریفرنڈم کی تجویز پیش کردی بلکہ ایڈیٹرصاحبہ کوذہنی صحت کے لیے معجون بھی تجویز کرڈالی۔ 

اِن دونوں واقعات پر ہنسی اتنی شدید آئی کہ رونا ہی آگیا۔ یعنی ہم اور فارم 45؟ لائیک سیریسلی۔ حضرات! میری سیاست میں دل چسپی اتنی ہی ہے، جتنی اربابِ اختیار کی ہم عوام میں۔ یعنی کہ… آہو… گورنمنٹ سرونٹ ہونے کی پاداش میں انتہائی حسّاس اسٹیشن پر سولہ گھنٹےکی ڈیوٹی بامشقّت، مکمل ایمان داری سے ادا کی،جب ایک ووٹر نے حسّاسیت پھیلانے کی نیّت سے الیکشن کے متوقع نتائج پرجان بوجھ کر ہماری رائے لینی چاہی تو ہم نے حیرانی سے آنکھیں پھاڑ کر پوچھا۔ ’’کیا؟؟؟ 

آج پاکستان میں الیکشن ہے؟‘‘ ہماری جونیئر آفیسر نے نہایت پروفیشنل طریقے سے اپنا قہقہہ ضبط کیا، جب کہ ووٹر، ہم مابدولت (سینئر آفیسر) کی دماغی حالت پر تذبذب کی شکار ہو کر آگے بڑھ گئی، تو ایسی انتہائی غیرسیاسی بندی، جو بیلٹ پیپرز ہاتھوں میں تھام کر ووٹر سے الیکشن قائم ہو جانے کی تصدیق چاہے، اُس پر اتنی بڑی دھاندلی کا الزام۔ سچّی، ہنسی کی زیادتی سے رونا ہی بنتا ہے۔ جیسے ڈاکٹر کلارک کا نظریہ کہ ’’انتہا پسندی کا سبب نفرت نہیں، محبّت ہے۔‘‘ طلعت عمران اُن کے انٹرویو کی تفصیلات مترجّم شکل میں لائے۔ 

اِس ضمن میں اُنہوں نے غیر منصفانہ رویوں کے انتہاپسندانہ ردِعمل کی وجہ اُس کی جڑوں میں موجود مخصوص کاز یا گروہ سے محبّت بتائی اور اِس ضمن میں مضبوط دلائل بھی پیش کیے۔ ڈاکٹر کلارک کے نظریات اپنی جگہ، مگر مَیں اپنی ناقص رائے میں محبّت کو کبھی انتہاپسندی کی بنیاد مان ہی نہیں سکتی۔ محبّت جیسے آسمانی تحفے مرہم بن کر نازل ہوتے ہیں، زخم بن کرنہیں۔ ڈاکٹر ریاض، علامہ اقبال کے فلسفۂ خودی کو خُود اعتمادی سے مربوط کررہے تھے۔ 

عنوان کچھ دل چسپ لگا، تو پورا مضمون پڑھ ڈالا، مگر آخر تک پہنچ کر واقعی سراہا کہ آسان ترین الفاظ میں دونوں موضوعات کا آپس میں گہرا تعلق واضح کیا گیا۔ رائٹ اَپ، ایڈیٹر کے قلم سے ہو اور آپ جہانِ رنگ و بُو کی مسحور کن فضاؤں میں محوِپروازنہ ہو جائیں، ناممکن۔ میرے دل کی بات لکھ دی کہ ’’اپنی پکی سہیلی‘‘ بن جائیں۔ 

دنیا کی محفلوں سے اکتائے میرے دل کو بھی بس اپنی کمپنی ہی پسند ہے۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ کے افسانے، ناقابلِ فراموش کی کمی محسوس نہیں ہونے دیتے۔ کبھی پُراسرار چھلّا، کبھی برستی بارش میں ٹائم ٹریول، تاہم معیار اور پیرایہ، دل چسپی برقرار رکھنے کے تمام سامان سے آراستہ رہتا ہے۔ 

ایک مرتبہ میگزین میں مقبول ہوتے پاکستانی یو ٹیوبرز کا تعارف شائع ہوا تھا۔ گزارش ہے، اگر ممکن ہو تو دھیمے اندازِبیاں، ٹھہرے لب و لہجے کے حامل، فرقان قریشی کا باقاعدہ انٹرویو شاملِ اشاعت فرمائیں۔ قرأت کے بچپن کی کہانی سانس روک کر پڑھی۔ ٹیکساس کے پُرسکون گھر میں گداز بستر پر دراز،جب بچپن میں کھائے لُو کے تھپیڑے، بسوں کےدھکے یاد آتے ہوں گے، تو نرم بستر پر بھی کانٹے سے اُگ آتے محسوس ہوتے ہوں گے۔ 

قرأت نے اب جو قلم تھام لیاہے، تو ضرور تھامے ہی رکھنا چاہیے۔ تحریر شاید وجود ہی تب پاتی ہے، جب بہت کچھ بیتا، کاٹا اور سہا ہو اور ہاں، یقین کیجیے، مرکزی چوکھٹے کا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں، جو اس خط کو صفحے کے کسی کونے کھدرے میں بھی جگہ مل جائے تو میرے  لیے برابر اعزاز ہے۔ جو ذرا ’’ناشائستہ‘‘ ہو جائوں تو ’’اُن‘‘ حضرات سے بزبانِ ٹرک (Truck) یوں بھی کہہ سکتی ہوں۔ ’’ہارن دے کر پاس کریں، ورنہ برداشت کریں۔‘‘ لیکن ہرحال میں احترام ملحوظِ خاطر، لہٰذا بقول ایک دوسرا ٹرک، کہوں گی۔ ’’تُسی لنگھ جاؤ، ساڈی خیر اے۔‘‘ (شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ)

ج: کیا بات ہے تمہاری، تمہارا نامہ صحیح معنوں میں’’اسیر‘‘کرلیتا ہے۔ پورا خط پڑھے بغیر لمبی سانس بھی نہیں لی جاتی، پلکیں تو جھپکنا بھولی ہی ہوتی ہیں۔ تمھارے لیے ’’مرکزی چوکھٹا‘‘مسئلہ نہیں ہوگا، لیکن ہمارےلیے ضرور ہے کہ ہمیں تو ہر صُورت میرٹ مقدّم رکھنا ہوتا ہے۔

گوشہ برقی خطوط

* شمارہ پیشِ نظرہے اورماشاءاللہ پورا کا پورا قابلِ آفرین ہے۔ سیّدہ تحسین عابدی کا مضمون ’’غیرت کے نام پر قتل، غیرت کا قتل‘‘ قابل صدِ تحسین ہی نہیں، حاصلِ شمارہ ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ ’’رُوح فرسا، لرزہ خیزقبائلی رسوم ریاستی وجود، عدالتی وقار اور انسانی شعورکےلیے کُھلا چیلنج ہیں۔ آپ تحسین عابدی کی تحریروں کی قدرکرتی ہیں، یہ اور بھی خوشی کی بات ہے۔ 

یااللہ! ہمارا شمار بھی ایسے ہی’’خوش نصیب‘‘ لکھاریوں میں فرما۔ ایک تجویز یہ ہے کہ گوشۂ برقی خطوط میں بھی ہر خط کی سُرخی لکھی جائے، بلکہ ممکن ہو تو ساتھیوں کو’’اِس ہفتے کی میل‘‘ کا اعزاز بھی دیا جائے۔ اللہ آپ کی توفیقاتِ خیر میں اضافہ فرمائے۔ (سیّد ذوالفقار حسین نقوی، نیو رضویہ سوسائٹی، کراچی)

ج: ہم سےتو کہیں زیادہ آپ تحسین کی تحریروں کے قدردان ہیں۔ غالباً یہ تیسرا برقی نامہ محض اِسی مقصد کی خاطر بھیجا گیا ہے۔

* اگرچہ سنڈے میگزین کے قاری اور لکھاری بنے ہوئے بچپن سے پچپن تک پہنچ گئے، لیکن ہر مرتبہ میگزین میں ’’آپ کا صفحہ‘‘ کھول کر یہی سوچتے رہے کہ اگر یہ برقی خطوط کا سلسلہ ہمارے اور میگزین کے مابین بھی قائم ہو جائے، توکیا ہی اچھا ہو، کیوں کہ کم ازکم پوسٹ آفس تک جانے کے لیے گھروالوں کی خوشامد تونہ کرنی پڑے۔ 

بہرحال قصّہ مختصر ،بالآخربیٹی کی رہنمائی میں ہم نے یہ معرکہ بھی سر کرہی لیا۔ ’’پیاراگھر‘‘ میں عزیزہ انجم اور تحریم فاطمہ دونوں کی تحریریں عُمدہ اور وقت کا تقاضا تھیں۔ ’’ناقابلِ فراموش‘‘میں میری تحریر شائع کرنے کا شکریہ، آیندہ بھی کوشش جاری رکھوں گی۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ کیا ہی عمدہ سلسلہ ہے۔ دیگر تمام صفحات بھی ہمیشہ کی طرح بہترین تھے۔ (روبینہ ادریس، گلشنِ اقبال، کراچی)

ج: بہت مبارک ہو، ایسی معرکہ آرائی یقیناً قابلِ صد ستائش ہے، اور ایسی بیٹیاں بھی۔

* تحریکِ پاکستان سے متعلق میرے مضمون میں آپ کی تصحیح اور ترمیم واضافے نے اُسے مزید جامع اورموثر بنا دیا، خاص طور پر ہیڈنگز کا تو جواب نہیں تھا۔ مَیں واقعتاً تہہ دل سے ممنون ہوں۔ (مدثر اعجاز، لاہور)

قارئینِ کرام کے نام !

ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔

نرجس ملک

ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘

روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی

sundaymagazine@janggroup.com.pk

سنڈے میگزین سے مزید