اسلام آباد (قاسم عباسی) پاکستان ہاکی فیڈریشن ایک نئے تنازع کی زد میں آ گئی ہے، جہاں تازہ انکشافات نے نہ صرف قومی ٹیم کے حالیہ دورۂ آسٹریلیا کے انتظامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں بلکہ فیڈریشن کے صدر طارق بگٹی کو بھی مشکوک بنا دیا ہے۔ یہ انکشافات اس وقت سامنے آئے جب آسٹریلیا کے دورے کے دوران سنگین مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کی اطلاعات منظر عام پر آئیں۔ ذرائع کے مطابق، پاکستان اسپورٹس بورڈ نے پیشگی تمام فنڈز فراہم کر دیے تھے لیکن اس کے باوجود کھلاڑیوں کو ادائیگی کے مطابق رہائش اور سہولیات فراہم نہیں کی گئیں جس کا بل ہاکی فیڈریشن کی جانب سے جمع کرایا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق، طارق بگٹی کی فیڈریشن کی صدارت تک رسائی مبینہ طور پر نگراں حکومت کے دور میں ایک سیاسی مفاہمت کا نتیجہ تھی۔ باخبر ذرائع کے مطابق، نگراں حکومت کے دوران بلوچستان کی ایک با اثر شخصیت نے مبینہ طور پر اپنے کزن طارق بگٹی سے درخواست کی کہ وہ ان کے مقابلے میں انتخاب نہ لڑیں۔ بتایا جاتا ہے کہ طارق بگٹی نے دستبردار ہونے پر آمادگی ظاہر کی تھی جس کے بعد نگراں حکومت میں بلوچستان کی ایک اور اہم شخصیت کی مرضی سے انہیں سیاسی ایڈجسٹمنٹ کے طور پر پاکستان ہاکی فیڈریشن کا صدر مقرر کر دیا گیا تھا۔ دی نیوز نے موقف کیلئے دونوں متعلقہ شخصیات سے رابطہ کیا۔ دونوں نے واٹس ایپ پر سوالات موصول ہونے کی تصدیق کی، تاہم کوئی جواب نہیں دیا۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری سے بھی رابطہ نہیں ہو پایا۔، ذرائع کے مطابق قومی ٹیم کو اس کے برعکس کم خرچ رہائش گاہوں، حتیٰ کہ ایئر بی این بی طرز کی جگہوں پر ٹھہرایا گیا، جبکہ آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے مالی معاونت بھی طلب کی گئی، حالانکہ مکمل فنڈز پہلے ہی جاری ہو چکے تھے۔ تاحال فیڈریشن نے نہ تو دورے سے متعلق بے ضابطگیوں اور نہ ہی طارق بگٹی کی تقرری کے پس منظر پر کوئی مفصل وضاحت جاری کی ہے۔ مبصرین کے مطابق اس خاموشی سے بحران مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔