واشنگٹن (تجزیہ: عظیم ایم میاں) غزہ بورڈ کے افتتاحی اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے آزاد فلسطینی مملکت کا موقف دہرادیا ، اسرائیل بورڈ کا رکن ہے جبکہ اس میں فلسطینی نمائندگی غائب ہے، بورڈ کے مقاصد اور اقدامات بارے یورپی ممالک بھی تحفظات کا شکار ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کے 20؍ نکاتی مجوزہ منصوبے کے تحت المناک تاریخی تباہی کے شکار غزہ کی تعمیر نو کے لئے قائم ’’بورڈ آف پیس‘‘ (Board of Peace) کا افتتاحی اجلاس تقریباً ڈھائی گھنٹے کی کارروائی کے بعد اپنے آئندہ ’’ایکشن‘‘ کی کوئی تاریخ یا تفصیل بتائے بغیر ختم ہوگیا البتہ امریکی صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خا رجہ مارکو روبیو سمیت بعض امریکی مقررین کا کہنا تھا کہ بورڈ کے منصوبوں پر محض سفارتی گفتگو کی بجائے ایکشن اور عملی نتائج پر توجہ ہوگی۔ افتتاحی اجلاس میں تقریباً 40؍ ممالک کی شرکت بیان کی گئی جن میں بورڈ کے بانی رکن ممالک کے علاوہ بعض ممالک بطور مبصر بھی شریک ہوئے جبکہ امریکا کے اتحادی بض اہم یورپی ممالک اس امن بورڈ کے بارے میں تحفظات کے باعث نہ تو رکن بنے ہیں اور نہ ہی شریک ہوئے۔