سکھر (بیورو رپورٹ) رمضان المبارک کے موقع پر مصنوعی گراں فروشی اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کی روایت برقرار، پھل، فروٹ کے بعد سموسے، ہکوڑے، جلیبی، پھینی، کھجلہ، آٹا، گھی، چینی، دال، چاول، چائے کی پتی سمیت روز مرہ استعمال کی تمام اشیاء کے نرخ 30فیصد زیادہ وصول کئے جارہے ہیں، انتظامیہ سرکاری نرخ نامے پر عملدرآمد کروانے سے گریزاں دکھائی دے رہی ہے، دکانداروں اور خریداروں میں نوک جھونک، سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہورہا ہے، مہنگائی کے ستائے لوگ محدود خریداری کررہے ہیں جبکہ متوسط و غریب طبقے کے لوگ مہنگائی کے تیور دیکھتے ہوئے مارکیٹوں کا رخ کرنے سے گریزاں ہے اور یومیہ بنیادوں پر معمول کی چیزیں خرید کر گزارہ کررہے ہیں۔ ڈویژنل و ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پیشگی اقدامات کے دعوؤں کے برعکس ماہ رمضان المبارک کے موقع پر کھانے و پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اچانک من مانا اضافہ کردیا گیا ہے، پھینی، کھجلہ، مشروبات اور ایسی تمام چیزیں جو کہ سحر و افطار کے اوقات میں زیادہ استعمال کی جاتی ہے ان کے من مانے نرخ وصول کئے جارہے ہیں۔ وکٹوریہ مارکیٹ، پان منڈی، اناج بازار، کریانہ بازار، گھنٹہ گھر چوک، شہید گنج ودیگر میں اشیاء کی قیمتوں میں اضافے پر خریدار اور دکانداروں کے مابین تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہورہا ہے، دکانداروں کا کہنا ہے کہ یہ سب ذخیرہ اندوزوں کی کارستانی ہے، وہ ہمیں مہنگا مال دے رہے ہیں، ہم تو معمولی منافع رکھ کر فروخت کررہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ناجائز منافع کے لالچی لوگوں کا احساس و ضمیر مر چکا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ دوسری جانب مہنگائی کے شکنجے میں پھنسا ہوا عام دیہاڑی دار اور تنخواہ دار طبقہ قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر مارکیٹوں کا رخ کرنے سے گریزاں ہے اور معمول کی چیزیں خرید کر گزر بسر کررہا ہے۔ شہری و عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ سندھ ودیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ خود ساختہ مہنگائی و ناجائز منافع خوری کو روکنے کے لئے عملی طور پر اقدامات کئے جائیں تاکہ لوگوں کو ریلیف مل سکے۔