• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پیپلز پارٹی ضلعی سطح پر اختیارات دینے کو تیار نہیں، مصطفیٰ کمال

کراچی (ٹی وی رپورٹ) وفاقی وزیر اور ایم کیو ایم کے سینئر رہنما مصطفی کمال نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ میں ضلعی سطح پر اختیارات دینے کو تیار نہیں ہے۔ سابق سفیر برائے امریکا، حسین حقانی نے کہا کہ امریکی سفیر مائیک ہکابی کا حالیہ بیان اپنی نوعیت میں تشویشناک ضرور ہے۔ دفاعی تجزیہ کار،میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے کہا کہ افغان طالبان کی ڈوریں کہیں اور سے ہلائی جا رہی ہیں۔ وہ جیو نیوز کے ’’نیا پاکستان‘‘ میں میزبان شہزاد اقبال سے گفتگو کررہے تھے۔ تفصیلات کے مطابق پروگرام کے آغاز میں میزبان شہزاد اقبال نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سندھ اسمبلی میں صوبے کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور۔جوقرارداد کی مخالفت کرے گا سندھ کا مخالف ہوگا، وزیراعلیٰ۔سندھ میں نئے صوبہ کا مطالبہ،پیپلز پاٹی ، ایم کیو ایم آمنے سامنے۔ وفاقی وزیر اور ایم کیو ایم کے سینئر رہنما مصطفی کمال نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ نے اٹھارویں ترمیم کی حمایت اس نیت سے کی تھی کہ اختیارات وفاق سے صوبوں میں منتقل ہوں اور وہاں سے آگے بلدیاتی نمائندوں تک پہنچیں۔ان کے مطابق ترمیم کا اصل مقصد یہ تھا کہ اختیارات صرف وزرائے اعلیٰ تک محدود نہ رہیں بلکہ ڈسٹرکٹ، ٹاؤن اور شہری سطح تک منتقل ہوں تاکہ ہر شہر اور ہر ضلع کو براہ راست فائدہ مل سکے۔مصطفی کمال نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی صوبے میں ضلعی سطح پر اختیارات دینے کو تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 17 سالوں سے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، اختیارات تو صوبے کو مل گئے مگر وہ وزیراعلیٰ ہاؤس تک محدود ہو کر رہ گئے۔انہوں نے کہا کہ جو مالی وسائل پہلے ملتے تھے وہ بھی بند یا کم ہو گئے اور شہری علاقوں کو بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا گیا۔ ان کے بقول نہ پینے کا صاف پانی فراہم کیا جا رہا ہے، نہ کچرا اٹھایا جاتا ہے اور نہ ہی شہری علاقوں کو سرکاری ملازمتوں میں مناسب کوٹہ دیا جاتا ہے۔وفاقی وزیر نے زور دیا کہ ایم کیو ایم آئین کے دائرے میں رہ کر بات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق آئین میں نئے صوبے بنانے کی گنجائش موجود ہے اور وفاق کے پاس بھی مخصوص آئینی اختیارات موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہری علاقوں کے عوام اگر اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں تو یہ کوئی غیر آئینی بات نہیں بلکہ مکمل طور پر قانونی اور آئینی حق ہے۔مصطفی کمال نے پارٹی کے اندر اختلافات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چاہے خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار اکیلے پریس کانفرنس کریں یا وہ خود علیحدہ بات کریں، جماعت کے مؤقف میں کوئی فرق نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم ایک متحد جماعت ہے اور رہے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی کے اندر کوئی ایسا اختلاف نہیں جو جماعت کو نقصان پہنچائے، بلکہ سب رہنما شہری حقوق اور بہتر طرز حکمرانی کے مطالبے پر متفق ہیں۔مصطفی کمال نے کہا کہ ایم کیو ایم کا بنیادی مؤقف سادہ ہے: اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں تاکہ کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں کو ان کا جائز حق مل سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جماعت آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ شہزاد اقبال نے مزید کہا کہ امریکی سفیر مائیک ہکابی کا خطرناک بیان،14 مسلم ممالک کا سخت رد عمل۔ خطرناک بیانات خطے کا امن خطرے میں ڈال سکتے ہیں، مشترکہ بیان۔ہکابی نے مشرق سطیٰ کو اسرائیل کا ”مذہبی حق“قرار دیا تھا۔ سابق سفیر برائے امریکا، حسین حقانی نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ یہ بیان اپنی نوعیت میں تشویشناک ضرور ہے، لیکن اس لئے غیر معمولی اہمیت کا حامل نہیں کہ بیان دینے والا شخص امریکی نظامِ حکومت میں کوئی کلیدی پالیسی ساز مقام نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق مائیک ہکابی ایک چھوٹی ریاست کے سابق گورنر رہ چکے ہیں اور مسیحی شدت پسند سوچ کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا میں بعض مذہبی گروہ اسرائیل کی حمایت میں خود اسرائیلیوں سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں اور اپنے مخصوص مذہبی عقائد کی بنیاد پر مشرقِ وسطیٰ کے معاملات کو دیکھتے ہیں۔
اہم خبریں سے مزید