کراچی (رفیق مانگٹ) امریکی تعلیمی نظام میں گزشتہ دو عشروں کے دوران نصابی کتب کی جگہ لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹس متعارف کرانے پر اربوں ڈالر خرچ کیے گئے، تاہم ماہرینِ نفسیات اور اعصابی سائنسدانوں کے مطابق اس اقدام کے نتیجے میں جنریشن ژی پہلی ایسی نسل بن گئی ہے جس کی علمی و ادراکی صلاحیتیں گزشتہ نسلوں سے کم دیکھی جا رہی ہیں۔ماہرین نفسیات اور تحقیق کے مطابق ٹیکنالوجی زدہ نسل والدین سے کم ذہنی صلاحیت کی حامل، غیر محدود رسائی نے سیکھنے کی صلاحیت بڑھانے کے بجائے کمزور کردی ، ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ 2007کے بعد اسمارٹ فون پھیلاؤ سے تعلیمی توجہ میں مزید کمی، اسکرین ٹائم سیکھنے میں مددگار نہیں بلکہ نقصان دہ ہے۔ امریکی جریدے فارچیون کے مطابق 2002میں ریاست مین نے طلبہ کو اسکولوں میں ٹیکنالوجی تک وسیع رسائی دینے کے لیے پہلا ریاستی لیپ ٹاپ پروگرام شروع کیا، جسے اس وقت کے گورنر نے بچوں کو انٹرنیٹ اور معلومات تک براہِ راست رسائی دینے کا ذریعہ قرار دیا تھا۔ اسی سال اسکولوں میں ساتویں جماعت کے طلبہ کو 17 ہزارایپل لیپ ٹاپ فراہم کیے گئے، جبکہ 2016 تک یہ تعداد بڑھ کر 66 ہزار لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹس تک پہنچ گئی۔ بعد ازاں یہ رجحان پورے امریکا میں پھیل گیا اور 2024 میں تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل آلات کی فراہمی پر 30 ارب ڈالر سے زائد خرچ کیے گئے۔ تاہم متعدد ماہرین کے مطابق نتائج ابتدائی توقعات کے برعکس سامنے آئے۔ امریکی سینیٹ کمیٹی کے سامنے تحریری بیان میں نیورو سائنسدان جیرڈکونی ہورواتھ نے کہا کہ جنریشن ژی جدید تاریخ کی پہلی نسل ہے جس کے معیاری امتحانات میں نتائج گزشتہ نسل سے کم آئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خواندگی اور عددی مہارتیں ذہانت کی مکمل عکاس نہ بھی ہوں، پھر بھی یہ ادراکی صلاحیت کی اہم نشاندہی کرتی ہیں جو گزشتہ دہائی میں کم ہوئی ہے۔ انہوں نے عالمی طلبہ کے جائزے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اسکول میں کمپیوٹر کے زیادہ استعمال اور کم امتحانی نتائج کے درمیان واضح تعلق پایا گیا۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی تک غیر محدود رسائی نے سیکھنے کی صلاحیت بڑھانے کے بجائے اسے کمزور کیا، جبکہ 2007 میں اسمارٹ فون متعارف ہونے سے یہ رجحان مزید تیز ہوا۔ ہوروتھ نے کہا کہ مسئلہ ٹیکنالوجی کو مسترد کرنے کا نہیں بلکہ تعلیمی آلات کو انسانی سیکھنے کے طریقہ کار کے مطابق بنانے کا ہے، کیونکہ غیر منظم ڈیجیٹل توسیع نے تعلیمی ماحول کو مضبوط کرنے کے بجائے کمزور کیا۔ 2017 میں بھی رپورٹ سامنے آئی تھی کہ مین کے سرکاری اسکولوں کے ٹیسٹ نتائج ٹیکنالوجی پروگرام کے 15 سال بعد بھی بہتر نہیں ہوئے، جس پر سابق گورنر نے اس منصوبے کو بڑی ناکامی قرار دیا تھا۔نفسیات کی پروفیسر کا کہنا ہے کہ مسلسل اسکرین ٹائم سیکھنے کے لیے غیر مؤثر بلکہ الٹا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ہوروتھ کے مطابق حکومت تعلیمی ڈیجیٹل آلات کی مؤثریت کے معیار مقرر کر سکتی ہے اور نابالغ طلبہ کے ڈیٹا کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کر سکتی ہے۔ 2025 تک 17 امریکی ریاستوں نے تدریسی وقت میں موبائل فون استعمال پر پابندی لگائی جبکہ 35 ریاستوں میں کلاس روم میں فون استعمال محدود کرنے کے قوانین نافذ ہیں۔