• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اپوزیشن سے بامعنی مذاکرات کی متعدد کوششیں کیں، رانا ثناء

کراچی (ٹی وی رپورٹ) وفاقی وزیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن سے بامعنی مذاکرات کی متعدد کوششیں کیں، انتخابات کی تاریخ پر بھی پیشرفت ہوچکی تھی، حتمی منظوری نہ ملنے کے باعث معاملات آگے نہ بڑھ سکے، حکومت آج بھی پارلیمانی دائرے میں مذاکرات کیلئے تیار ہے۔ وہ جیو نیوز کے پروگرام ’’جرگہ‘‘ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کررہے تھے۔ تفصیلات کے مطابق پروگرام کے آغاز میں میزبان سلیم صافی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کوڈیل کب آپ لوگوں کی طرف سے یا کس کی طرف سے آفر کی گئی تھی؟۔ وفاقی وزیر برائے سیاسی امور اور سینیٹر رانا ثناء اللہ خان نے کہاکہ حکومت نے 2023 ء اور 2024 ء کے دوران اپوزیشن کے ساتھ سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات کی متعدد کوششیں کیں، حتیٰ کہ انتخابات کی تاریخ پر بھی پیش رفت ہوچکی تھی، تاہم بقول ان کے دوسری جانب سے حتمی منظوری نہ ملنے کے باعث معاملات آگے نہ بڑھ سکے۔ انہوں نے کسی بھی خفیہ ڈیل یا مقدمات ختم کرنے کی پیشکش کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ تمام معاملات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں اور وہیں طے ہوں گے، جبکہ حکومت آج بھی پارلیمانی دائرے میں مذاکرات کے لئے تیار ہے۔حکومت نے ماضی میں سنجیدہ مذاکراتی کوششیں کیں لیکن دوسری جانب سے پیش رفت کو خود سبوتاژ کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی قسم کی ڈیل یا مقدمات کے خاتمے کی کوئی پیشکش نہ کبھی ہوئی ہے اور نہ ہو سکتی ہے، جبکہ تمام قانونی معاملات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں اور وہیں طے ہوں گے۔رانا ثناء اللہ خان نے بتایا کہ یہ سلسلہ اُس وقت شروع ہوا جب پی ڈی ایم کے دور میں 2023 ء میں اسمبلیاں توڑ کر مئی میں انتخابات کرانے کی تحریک چلائی جا رہی تھی۔ اس وقت ن لیگ اور اتحادی حکومت کی جانب سے سنجیدہ ڈائیلاگ ہوا جس کی قیادت اسحاق ڈار کر رہے تھے جبکہ دوسری جانب سے شاہ محمود قریشی شامل تھے۔ان کے مطابق، الیکشن کی تاریخ پر پیش رفت ہوئی اور جولائی کی ایک ممکنہ تاریخ پر اتفاق رائے بھی بن گیا تھا۔ کمیٹی اراکین نے میڈیا کے سامنے آکر اعلان کرنے کی تجویز دی، تاہم دوسری جانب سے کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی سے اجازت لینا ضروری ہے۔ اگلے روز اجازت نہ ملنے پر معاملہ رک گیا۔انہوں نے کہا کہ 2024 ء میں بھی اسی اسمبلی کے اندر باقاعدہ مذاکراتی کمیٹیاں قائم ہوئیں۔ حکومتی کمیٹی میں راجہ پرویز اشرف، مرحوم عرفان صدیقی، اسحاق ڈار اور دیگر شامل تھے جبکہ اپوزیشن کی طرف سے اسد قیصر، علی امین گنڈا پور اور دیگر شریک ہوئے۔دو نشستوں کے بعد اپوزیشن کی جانب سے پیغام آیا کہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت ہے کہ تیسری میٹنگ نہ کی جائے اور فوری طور پر 9 مئی اور 26 مئی کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے، جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج کریں۔ یہ مطالبہ بھی اتفاقِ رائے تک نہ پہنچ سکا۔رانا ثناء اللہ نے اس تاثر کی سختی سے تردید کی کہ حکومت نے مقدمات ختم کرنے یا کسی قسم کی رعایت دینے کی پیشکش کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بیانیہ سوشل میڈیا پر گھڑا گیا۔میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری سمیت دیگر رہنماؤں کو جو بھی ریلیف ملا، وہ عدالتوں سے ملا۔انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی بھی دو ٹوک ہے اور کسی قسم کی خفیہ پیشکش زیرِ غور نہیں آئی۔
اہم خبریں سے مزید