اسلام آباد(نیوز ڈیسک)نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)کے مطابق ملک کی 97 فیصد آبادی سرکاری طور پر رجسٹرڈ ہے۔رجسٹرڈ افراد میں 52فیصد مرد جبکہ 48فیصد خواتین شامل ہیں۔ قومی شناختی نظام میں تقریبا 98.3فیصد بالغ آبادی کی رجسٹریشن مکمل ہونے کے باوجود تقریبا 1.7 فیصد بالغ افراد نے ابھی تک شناختی کارڈ نہیں بنوایا۔ بالغ ہونے کے باوجود شناختی کارڈ نہ بنوانے والے شہریوں میں زیادہ تر تعداد خواتین کی ہے اور بعض ایسے اضلاع جہاں مقامی حکومت کے اداروں سے پیدائش کی سول دستاویزات بنوانے والوں کی تعداد کم ہیوہاں شناختی کارڈ نہ بنوانے والوں میں مرد اور خواتین دونوں شامل ہیں۔نادرا مقامی حکومت کی جانب سے جاری کردہ کمپیوٹرائزڈ پیدائش کے سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر پہلی بار رجسٹریشن کرتا ہے۔اسکی غیرموجودگی ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر سامنے آئی ہے۔ سال 2025 کی سالانہ رپورٹ کی تیاری کے دوران نادرا نے ادار شماریات پاکستان، الیکشن کمیشن آف پاکستان، قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں، قومی کمیشن برائے بہبودِ اطفال و ترقی اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر گزشتہ 10 برس کے رجسٹریشن کے اعداد و شمار کا تفصیلی تجزیہ کیااس تجزیے میں آبادی کے رجحانات، مختلف اضلاع اور اصناف کے درمیان فرق کا جائزہ لے کراس خلا کے اسباب کی نشاندہی کی گئی اور اصلاحی اقدامات تجویز کیے گئے۔ ان سفارشات کی روشنی میں وفاقی وزیر برائے داخلہ و انسدادِ منشیات نے ایک منظم اور قانونی بنیاد پر مبنی سہولت متعارف کرانے کی ہدایت جاری کی، جس کی منظوری بعد ازاں نادرا اتھارٹی بورڈ نے بھی دے دی۔اسی تناظر میں نادرا نے پہلی بار رجسٹریشن کیلئے ایک مخصوص سہولت متعارف کرائی ہے جو 31 دسمبر 2026 تک موثر رہے گی۔