اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں) وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان کو بارہا سرحد پار دراندازی کے ثبوت دیئے مگر افغان حکومت نے کوئی مثبت ردعمل نہیں دیا، اب صرف جنازے نہیں اٹھائیں گے بھرپور جواب دیں گے، ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیا جائیگا، افغانستان نے دراندازی کے ثبوت کے باوجود مثبت ردعمل نہیں دیا، دہشت گردوں کو دوسری سرحد پر دھکیلنے کیلئے 10 ارب مانگے،سرحدپار کارروائی میں 100 سے زائد دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں، امن چاہتے ہیں، سلامتی پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے افغانستان میں کی گئی پاکستان کی فضائی کارروائی پر حکومت کا باضابطہ موقف پیش کیا۔طارق فضل چوہدری نے کہا کہ افغانستان میں ہوئی حالیہ کارروائیاں انٹیلی جنس بیسڈ تھیں، ان کارروائیوں میں دہشت گردوں کے کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا، پاکستان نے افغانستان کے تین صوبوں میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا یہ کارروائی ایک دم سے نہیں ہوئی اس کا ایک پس منظر ہے۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران پاکستان نے طالبان حکومت کو دہشت گردوں کی افغان سرحد سے پاکستان میں دراندازی کے متعدد ثبوت پیش کیے، دہشت گردوں کے کیمپوں کی نشاندہی بھی کی، طالبان حکومت نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ 10ارب روپے دے دیں تو ہم ان دہشت گردوں کے کیمپس کو سرحد کی دوسری جانب منتقل کردیں گے، یہ ایک اعتراف تھا کہ دہشت گردوں کے کیمپ وہاں موجود تھے۔