مصنوعی ذہانت کے ماڈلز انسانوں کے مقابلے میں جوہری جنگ شروع کرنے کے زیادہ خواہش مند ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق کنگز کالج لندن کے پروفیسر کینتھ پین کی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز پر نئی تحقیق کے مطابق حقیقی دنیا کے اے آئی نظام وار گیمز فلم کی مشین کی طرح خونخوار ثابت ہو رہے ہیں۔
برطانوی تحقیق کے مطابق اے آئی جوہری ہتھیاروں کے ساتھ لڑنے کےلیے تیار دکھائی دیتی ہے، مصنوعی ذہانت ماڈلز نے آزمائش کے دوران جوہری بم استعمال کرنے پر زیادہ آمادگی ظاہر کی۔
تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ چیٹ جی پی ٹی، کلاؤڈ اور جیمنائی نے فرضی بحرانوں میں جوہری ہتھیاروں کی طرف رہنمائی کی، کلاؤڈ اور جیمنائی جوہری ہتھیاروں کے استعمال پر اخلاقی حد کے بجائے جائز اسٹریٹیجک آپشن کی طرف مائل رہے۔
برطانوی تحقیق کے مطابق چیٹ جی پی ٹی اس رجحان کا جزوی مخالف نظر آیا۔
تحقیق کے مطابق اےآئی ماڈلز نے آپشن میں مکمل شکست تسلیم کرنے یا مخالف فریق کو مان لینے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔
امریکی میڈیا کے مطابق ماہرین نے نئی تحقیق کے نتائج کو انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔