• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

او آئی سی سی آئی کا IMF سے رسمی شعبے پر ٹیکس کم کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد (مہتاب حیدر) اوورسیز چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے نمائندوں نے جمعرات کے روز آئی ایم ایف سے مطالبہ کیا کہ آئندہ بجٹ میں رسمی شعبے پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جائے؛ تاہم، فنڈ کے عملے نے اس حوالے سے بتدریج طریقہ کار اپنانے کا اشارہ دیا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب پر ہر طرف سے، بالخصوص سیاسی آقاؤں کی جانب سے دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ آئی ایم ایف کو نرم رویہ اپنانے پر قائل کریں، تاکہ اسلام آباد کو اگلے بجٹ سے سست روی کا شکار معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لیے ایک تحریکی پیکج دینے کی اجازت مل سکے۔ تاہم، یہ مقصد ٹیکس کی شرحوں کو متناسب بنانے اور بجلی و گیس کے نرخوں میں مزید کٹوتی کے بغیر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اسی تناظر میں جمعرات کے روز او آئی سی سی آئی کے وفد کے ساتھ آئی ایم ایف کے جائزہ مشن کی ملاقات کا اہتمام کیا گیا۔ آئی ایم ایف کا یہ مشن آج (جمعہ کے روز) کراچی میں پاکستان بزنس کونسل کے ساتھ بھی ملاقات کرے گا تاکہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے بارے میں ان کا نکتہ نظر معلوم کیا جا سکے اور بجٹ 27-2026 کے حوالے سے ان کی توقعات سنی جا سکیں۔ آئی ایم ایف کے جائزہ مشن نے جمعرات کو کراچی میں او آئی سی سی آئی کے نمائندوں سے ملاقات کی، جنہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ ٹیکسوں کے ناقابل برداشت بوجھ اور توانائی کی بھاری قیمتوں کی وجہ سے ملک میں صنعتوں کی بندش کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ نمائندوں نے سپر ٹیکس کی بلند شرح کے خلاف بھی شکایت کی اور موقف اختیار کیا کہ کارپوریٹ ٹیکس کی شرح محض 29 فیصد نہیں ہے، بلکہ عملی طور پر یہ 45 سے 50 فیصد تک جا پہنچتی ہے۔

اہم خبریں سے مزید