کراچی (رفیق مانگٹ) امریکا نے ممکنہ جنگی مشن کیلئے پہلی بار لڑاکا طیارے اسرائیل تعینات کر دیے، ایران کیخلاف کشیدگی میں بڑا قدم، امریکی سینٹرل کمانڈ خاموش، مگر سوشل میڈیا پر ایف-22 طیاروں کی آمد کی ویڈیوز وائرل، ابراہیمی معاہدوں کے بعد امریکا اسرائیل فوجی تعاون مزید نمایاں، ماضی میں واشنگٹن نے اس تعاون کو واضح کرنے سے گریز کیا۔ امریکا نے پہلی مرتبہ جدید لڑاکا طیارے اسرائیل میں ممکنہ جنگی مشن کے لیے تعینات کر دیے ہیں، جسے ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں دونوں ممالک کے دفاعی تعاون میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکا نے اس ہفتے اپنے جدید ترین اسٹیلتھ لڑاکا طیارے ایف-22 ریپٹر اسرائیل بھیجے، جو پہلی بار ہے کہ امریکی جنگی طیارے کسی ممکنہ جنگی کارروائی کے لیے وہاں تعینات کیے گئے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد اسرائیلی سرزمین اور مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی افواج کو ممکنہ ایرانی جوابی کارروائی سے محفوظ بنانا اور ضرورت پڑنے پر حملہ آور آپریشن کی صلاحیت فراہم کرنا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعاون پہلے بھی موجود رہا ہے، تاہم ماضی میں واشنگٹن نے اس تعاون کو نمایاں کرنے سے گریز کیا۔ امریکا اسرائیل میں تھاڈ اینٹی میزائل نظام چلانے کے لیے فوجی بھیج چکا ہے اور میزائل دفاعی نظام سے لیس بحری جہاز بھی اسرائیل کے قریب تعینات کرتا رہا ہے۔