کراچی( افضل ندیم ڈوگر) کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں منور چورنگی انڈر پاس کو مکمل کرنے کے لیے وزیراعلی سندھ کی جانب سے ایک مہینے کا وقت دیا گیا ہے مگر اس نمائندے کے دور کے دورہان دیکھا گیا کہ ایک سال میں منصوبے کا صرف 40 فیصد کام مکمل ہوا ہے اور کسی بھی صورت ایک مہینے میں منصوبہ مکمل ہونے کی دور دور تک امید نہیں۔ گذشتہ دوپہر دیکھا گیا کہ منصوبے پر کوئی مزدور سپروائزر یا مشینری موجود نہیں تھی صرف ایک چوکیدار ڈیوٹی پر تھا چوکیدار کا کہنا ہے کہ اگر اوائل دنوں کی طرح کام شروع ہوجائے تو کوئی وجہ نہیں منصوبہ جلد مکمل نہ ہو مگر کام ہو ہی نہیں رہا، تاخیر کی وجوہات کا چوکیدار کا کو علم نہیں تھا۔ ایک ارب 48 کروڑ کی لاگت کا یہ منصوبہ تاخیر کی وجہ سے مزید مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔ علاقہ مکین سڑک پار کرنے کیلئے دور دراز کا سفر کرتے ہیں یا انہیں انڈر پاس کے نیچے کھائی میں جاکر واپس اوپر جانا پڑتا ہے جو ایک مشکل مرحلہ ہے۔ خاص طور پر معذور، بوڑھے افراد، خواتین اور اسکول کے بچوں کے لیے مشکلات ہیں۔ انڈر پاس کے ایک حصے پر پانی بھرا ہوا دکھائی دیا جبکہ درمیانی انڈر پاس کے مقام سے تاحال مٹی ہی نہیں نکالی جا سکی جہاں دیواریں بننے کے بعد چھت ڈالی جائے گی۔ انڈر پاس کی پوری سڑک تعمیر ہوگی۔ انڈر پاس سے نکاسی آب اور روشنی کے انتظامات بھی کیے جانے ہیں۔ ایسے میں علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ ایک ماہ میں یہ کام قطعی طور پر مکمل نہیں ہو سکتا واضح رہے کہ وزیراعلی سندھ نے گزشتہ روز منور چورنگی اور مینا بازار انڈر پاس ایک ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔