• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سانحہ گل پلازہ کمیشن، مزید دو چشم دید گواہان کے سنسنی خیز بیانات قلمبند

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سانحہ گل پلازہ سے بچ نکلنے والے مزید دو چشم دید گواہان نے اپنے سنسنی خیز بیانات میں کہا کہ سانحہ رونما ہونے کے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک آگ نے عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، دو دروازے کھلے تھے باقی تمام دروازے بند تھے، آگ لگنے کا اعلان تک نہیں ہوا ، لوگوں کی کثیر تعداد عمارت میں پھنسی ہوئی تھی لیکن انہیں بچانے کیلئے کوئی ریسکیو عملہ موقع پر نہیں پہنچا۔ تفصیلات کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے سربرای جسٹس آغا فیصل نے بچ جانیوالے مزید دو چشم دید گواہان کے بیانات قلمبند کر لئے جبکہ صحافی اور دانش کے بیانات پر جرح کے لئے بھی فائر بریگیڈ حکام اور میونسپل کمشنر کے جواب بھی موصول ہوگئے ہیں گزشہ روز کمیشن کے اجلاس کے بعد بچ جانیوالے 2شہریوں کے بیانات قلمبند کئے گئے۔ گواہ محمد جنید نے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ سوا 10 بجے میزانائن فلور پر دکان بند کرکے باہر جانے لگے تو دکان مالک کو یاد آیا کہ موبائل فون دکان میں رہ گیا ہے۔ اسی دوران دھویں کے گہرے بادل کی شکل نظر آئی۔ حالات کے پیش نظر کچھ دیر انتظار کیا اور پھر دیگر 2 لڑکوں کے ساتھ ساڑھے11 بجے گل پلازہ کے باتھ روم والی سائیڈ سے باہر نکلے۔ گہرے دھویں کی وجہ سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا۔ دھویں کی وجہ سے باہر نکلنے کے بعد بے ہوش ہوگیا۔ ایدھی ایمبولنس کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا۔ ہمارے باہر نکلنے تک آگ لگنے کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا اور نا ہی انتظامیہ یا ریسکیو ادارے کی جانب سے عمارت میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کی گئی۔ دوسرے گواہ علی حیدر نے بیان میں کہا کہ دکان بند کرنے کے وقت گراؤنڈ فلور پر دھواں نظر آیا۔ دکان چھوڑ کر عمارت کے عقبی سائیڈ سے فوری طور پر باہر نکلے۔ باہر نکل کر دیکھا میزانائن فلور پر آگ لگی تھی۔ ساڑھے دس بجے اپنی دکان پر واپس آیا۔ گراؤنڈ فلور پر آگ نہیں تھی صرف دھواں تھا۔ 10 منٹ بعد آگ دکان تک پہنچ گئی۔
اہم خبریں سے مزید