راولپنڈی/اسلام آباد(نیوزرپورٹر/ایجنسیاں )ایوان بالا نے جمعہ کو متفقہ طور پر قرارداد منظورکرلی جس میں افغانستان کی طالبان حکومت کو خبردار کیا گیا کہ پاکستان کے صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے جبکہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نےسعودی عرب ‘ترکیہ اورمصرکے وزراء خارجہ سمیت اہم عالمی رہنماؤں سے رابطے کرکے حالیہ علاقائی پیش رفت بالخصوص پاک افغان صورتحال پر تبادلہ خیال کیا‘وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑنے افغانستان کی طالبان حکومت کو غیرقانونی قراردیتے ہوئے کہاہےکہ آپریشن غضب للحق کے دوران 27 فروری 2026ء کو رات 11 بجے تک افغان طالبان رجیم کے 297 کارندے ہلاک اور 450 سے زائد زخمی ہوئے‘افغان طالبان کی 89 چیک پوسٹیں تباہ ہوئیں جبکہ 18 چیک پوسٹوں پر قبضہ کیا گیا۔ اسی طرح 135 ٹینک اور بکتربندمسلح گاڑیاں تباہ کی گئیں۔ افغانستان میں 29 مقامات کو فضائی کارروائی میں موثر طور پر نشانہ بنایا جبکہ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا، اب ہماری تمہاری کھلی جنگ‘ پاکستان کی فوج سمندر پار سے نہیں آئی ‘ہم ہمسائے ہیں اور آپ کی اوقات جانتے ہیں‘ پاکستان کے دفترخارجہ کاکہنا ہے کہ ہم توقع کرتے ہیں عالمی برادری بھی اپنا کردار ادا کرتے ہوئے طالبان حکومت کو واضح پیغام دے گی کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کی حمایت ختم کرے‘ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے افواج پاکستان کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کی پاکستان کے خلاف کارروائیاں ناقابل قبول ہیں ‘ اس حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے‘ چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان ملک کی حفاظت کیلئے ہر دم تیار ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جی ایچ کیوکے دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ علاوہ ازیں جمعہ کو جاری بیان میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مادر وطن کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، پاکستان کے عوام اور مسلح افواج ملک کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ ہماری مسلح افواج کسی بھی جارحانہ عزائم کو خاک میں ملانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواجِ پاکستان قومی جذبے کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں‘افواجِ پاکستان پیشہ ورانہ صلاحیتوں، اعلیٰ تربیت اور موثر دفاعی حکمت عملی سے لیس ہیں اور کسی بھی اندرونی یا بیرونی چیلنج سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔