اسلام آباد(مہتاب حیدر) ایسے وقت میں جب آئی ایم ایف مشن 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (Extended Fund Facility) پروگرام کے تحت تیسرے جائزے کی تکمیل کے لیے پاکستان کے دورے پر ہے، ایف بی آر کو رواں ماہ (فروری 2026) میں محصولات کی مد میں نمایاں کمی کا سامنا ہے۔حکومت کی ہدایات پر ٹیکس حکام نے یہ پالیسی اختیار کی کہ جاری ماہ میں کسی کے بینک اکاؤنٹس منسلک (اٹیچ) نہیں کیے جائیں گے، حالانکہ سپر ٹیکس کے معاملے پر ملک کی اعلیٰ وفاقی آئینی عدالت سے انہیں موافق فیصلہ مل چکا ہے۔جنوری 2026 میں ایف بی آر نے سپر ٹیکس کی مد میں خطیر رقم وصول کی تھی، تاہم فروری 2026 میں سپر ٹیکس کی ایک اور قسط کی صورت میں مقررہ 70ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں صرف 40ارب روپے جمع کیے جا سکے۔فروری کے لیے مقررہ ماہانہ ہدف 1.028 ٹریلین روپے (یعنی 10 کھرب 28 ارب روپے) تھا، جس کے حصول کے لیے ایف بی آر کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متعلقہ حکام کو خدشہ ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ ہدف کے حصول میں ٹیکس مشینری کو نمایاں کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔