کراچی(اسٹاف رپورٹر) پنشن اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی،اردویونیورسٹی ملازمین کو تشویش، وزیر اعظم کے تحریری احکامات کے باوجودعیدالفطر سے قبل تنخواہ اور پنشن ادا نہیں کی گئی، اردو یونیورسٹی کے مالی اور تعلیمی حالات کا فوری نوٹس لیں،اجلاس میں وزیرِ اعظم سے اپیل، عید کے موقع پر حاضر و ریٹائرڈ ملازمین مشکلات سے دوچار،ہنگامی اجلاس میں قرارداد منظور۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے عیدالفطر سے قبل وفاقی ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کے تحریری احکامات کے باوجود وفاقی اردو یونیورسٹی کے ملازمین اور ریٹائرڈ افراد کو پنشن اور تنخواہیں ادا نہ کئے جانے پر یونیورسٹی کے ریٹائرڈ اساتذہ اور ملازمین نے گہری تشویش اور دکھ کا اظہار کیا ہے۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کے ریٹائرڈ اساتذہ اور ملازمین کی کمیٹی کے کراچی پریس کلب میں منعقد ہونے والے خصوصی ہنگامی اجلاس میں منظور ہونے والی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ وفاقی محتسب کے مطابق یونیورسٹی کے پاس تقریبا ایک ارب روپے پنشن فنڈز میں موجود ہونے کے باوجود ریٹائرڈ ملازمین کو گزشتہ تین ماہ سے پنشن ادا نہیں کی گئی، گزشتہ 9 سال سے ریٹائرمنٹ کے بقایاجات ادا نہیں کئے گئے، جبکہ حاضر سروس ملازمین کی دو ماہ کی تنخواہیں اور 15 ماہ سے زائد عرصے کی ہاؤس سیلنگ جیسی بنیادی ادائیگیاں بھی نہیں ہو سکیں، جس کے باعث عید کے موقع پر ملازمین اور ان کے خاندان شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کے ریٹائرڈ اساتذہ اور ملازمین کی کمیٹی کا خصوصی ہنگامی اجلاس کراچی پریس کلب میں کمیٹی کے کنوینیر ڈاکٹر توصیف احمد خان کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں یونیورسٹی سینیٹ کی رکن مہناز رحمان، معروف محقق اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر ریاض شیخ، انسانی حقوق کمیشن (سندھ) کے صدر قاضی خضر حبیب، کراچی یونین آف جرنلسٹس کے طاہر حسن، سہیل سانگی، ڈاکٹر سعید احمد عثمانی، مسعود احمد خان اور دیگر نے شرکت کی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ نو سال سے زائد عرصہ قبل ریٹائرڈ ہونے والے اساتذہ اور ملازمین کے بقایاجات بھی تاحال ادا نہیں کئے گئے۔ شرکاء نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ پندرہ ماہ سے زائد عرصے کی ہاؤس سیلنگ ادا نہیں کی گئی جبکہ یونیورسٹی کے اساتذہ اور ملازمین کو حاصل میڈیکل کی سہولت بھی مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے، جس کے باعث ملازمین اور ریٹائرڈ افراد اپنی بیماریوں کے علاج کے لئے بھی خیراتی اداروں کی طرف دیکھنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وائس چانسلر ہر ماہ صرف مختصر وقت کے لئے یونیورسٹی آتے ہیں اور انہی دنوں میں اکیڈمک کونسل، سینڈیکیٹ اور جی آر ایم کے اجلاس منعقد کر لئے جاتے ہیں تاکہ کارکردگی کی رپورٹ میں ان اجلاسوں کا ذکر شامل ہو جائے۔ شرکاء کے مطابق وائس چانسلر کے اس طرزِ عمل کے باعث یونیورسٹی کے انتظامی اور تعلیمی امور متاثر ہو رہے ہیں اور اساتذہ اور ملازمین کا علمی و انتظامی اعتماد ختم ہو چکا ہے۔