انصار عباسی
اسلام آباد:…جہاں پاکستان افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کے باعث شدید متاثر ہو رہا ہے، وہیں 2020ء کے دوحہ معاہدے کے تحت امریکا اور افغان طالبان کے درمیان طے پانے والی انسدادِ دہشت گردی سے متعلق کلیدی یقین دہانیوں کی افغانستان کی جانب سے کھلے صریح خلاف ورزی کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ واشنگٹن کی طرف سے اس معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانے کیلئے کوئی نمایاں اقدام سامنے نہیں آ رہا۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت طالبان پر یہ لازم کیا گیا تھا کہ وہ اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ افغان سرزمین کسی بھی گروہ یا فرد کو امریکا اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوحہ معاہدے کے حصہ دوم میں واضح الفاظ میں درج ہے کہ طالبان اپنے کسی رکن یا کسی دوسرے گروہ، بشمول القاعدہ، کو افغان علاقے کو امریکا اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کیخلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے؛ ایسے گروہوں کی بھرتی، تربیت، مالی معاونت اور میزبانی کی روک تھام کریں گے؛ سلامتی کیلئے خطرہ بننے والے افراد کو ویزا، پاسپورٹ یا دیگر قانونی دستاویزات جاری نہیں کریں گے؛ اور ایک ’’واضح پیغام‘‘ دیں گے کہ ایسے عناصر کا افغانستان میں کوئی مقام نہیں۔ معاہدے کی زبان محض امریکا تک محدود نہیں بلکہ اس کے ’’اتحادیوں‘‘ تک توسیع رکھتی ہے۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں امریکا کا صفِ اول کا اتحادی رہنے کے باعث پاکستان بھی اسی زمرے میں شامل ہوتا ہے۔ تاہم، ان یقین دہانیوں کے باوجود پاکستان مخالف دہشت گرد گروہ افغان سرزمین سے کھلے عام سرگرمِ عمل ہیں۔ کابل میں طالبان کی حکمرانی کے دوران حالیہ برسوں میں سرحد پار حملوں اور دراندازی کی کوششوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسے گروہوں کی مسلسل موجودگی اور سرگرمیاں اس امر پر سنگین سوالات اٹھاتی ہیں کہ کیا طالبان دوحہ فریم ورک کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں یا نہیں۔ معاہدہ صرف غیر معاونت تک محدود نہ تھا بلکہ بھرتی، تربیت اور محفوظ پناہ گاہوں کی فعال روک تھام کا تقاضا کرتا تھا۔ ناقدین کے مطابق، اگر افغان سرزمین کو امریکا کے کسی اتحادی کیخلاف حملوں کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے تو معاہدے کی بنیادی انسدادِ دہشت گردی ضمانت متاثر ہو چکی ہے۔ امریکا نے معاہدے کے تحت اپنی بنیادی ذمہ داری، یعنی مکمل فوجی انخلا، تو پوری کر دی، لیکن طالبان حکومت کی نمایاں خلاف ورزیوں پر نفاذی اقدامات یا احتسابی طریقہ کار شروع کرنے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی، جس کا شدید نقصان پاکستان کو پہنچ رہا ہے۔ مزید برآں، افغانستان سے انخلا کے وقت بڑی مقدار میں جدید اسلحہ اور گولہ بارود وہیں چھوڑ دیا گیا، جسے اب دہشت گرد گروہ پاکستان کیخلاف استعمال کر رہے ہیں۔ دوحہ معاہدہ انخلا کی مشروط نوعیت کے سوا نفاذ کے تفصیلی ذرائع واضح نہیں کرتا۔ تاہم، پاکستان کے سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سفارتی دباؤ، ، پابندیوں کے نظام اور بین الاقوامی فورمز واشنگٹن کے پاس بدستور موجود ہیں، لیکن افغانستان کو پاکستان کیخلاف سرگرمیوں سے روکنے کیلئے یہ ذرائع استعمال نہیں کیے گئے۔ اصل مذاکراتی فریق ہونے کی حیثیت سے امریکا نے طالبان سے انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے واضح یقین دہانیاں حاصل کی تھیں، جو اب پاکستان کو نشانہ بنانے کیلئے کھلے عام پامال کی جا رہی ہیں۔ دوحہ معاہدہ دراصل ضمانتوں کے عوض انخلا کا انتظام تھا۔ امریکا نے افغانستان سے اس یقین دہانی پر انخلا کیا کہ افغان سرزمین اسے یا اس کے اتحادیوں کیخلاف خطرات کی آماجگاہ نہیں بنے گی۔ نئی دہلی کی پشت پناہی سے سرگرم دہشت گرد تنظیمیں، بشمول ٹی ٹی پی اور بی ایل اے، پاکستان میں دہشت گردی کیلئے افغان سرزمین استعمال کر رہی ہیں۔ گزشتہ تین چار برسوں کے دوران کابل سے بارہا مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی سرزمین کو اسلام آباد کیخلاف استعمال نہ ہونے دے، لیکن اس نے دوحہ معاہدے کے تحت کی گئی اپنی یقین دہانیوں پر عمل درآمد میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔