• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امیر ممالک ہجرت کے حوالے سے تیزی سے محتاط ہورہے ہیں، سروے

اسلام آباد (قاسم عباسی) گیلپ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن کے الحاق شدہ ادارے ’گیلپ پاکستان‘ کی جانب سے جاری کردہ سال 2025 کے اختتامی سروے کے مطابق، امیر ممالک ہجرت (مائیگریشن) کے حوالے سے تیزی سے محتاط ہو رہے ہیں، جبکہ کم آمدنی والے ممالک سرحد پار نقل مکانی کو زیادہ مثبت نظر سے دیکھتے ہیں۔ اکتوبر اور دسمبر 2025کے درمیان 60ممالک میں کیے گئے اس سروے میں، ملک چھوڑنے (ہجرت) اور ملک میں آنے (مہاجرت) کے حوالے سے عالمی رویوں میں بڑھتے ہوئے فرق کو اجاگر کیا گیا ہے۔ عالمی سطح پر، لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا ماننا ہے کہ ملک سے باہر ہجرت کرنا ان کے ملک کو فائدے کے بجائے نقصان پہنچاتا ہے۔ سروے میں شامل 27 فیصد افراد نے کہا کہ ہجرت فائدہ مند ہے، جبکہ 37 فیصد کا خیال تھا کہ یہ نقصان دہ ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر خالص سکور منفی 10 رہا۔ تنازعات اور جنگ سے متاثرہ ممالک میں ہجرت کے حوالے سے خاص طور پر منفی خیالات سامنے آئے ہیں۔ یوکرین میں 63 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ ہجرت ملک کو نقصان پہنچاتی ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں صرف 11 فیصد اسے فائدہ مند سمجھتے ہیں۔ اسی طرح کے جذبات عراق (69 فیصد کا کہنا ہے کہ یہ نقصان دہ ہے) اور شام (47 فیصد کا کہنا ہے کہ یہ نقصان دہ ہے) میں بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر، سروے میں شامل 60 میں سے 34 ممالک کا کہنا ہے کہ ہجرت (ملک چھوڑ کر جانا) ان کے ملک کو فائدے کے بجائے زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔ یونان میں ہجرت کے خلاف سب سے زیادہ سخت ردعمل (منفی 87 فیصد) ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد سربیا (منفی 68 فیصد)، اسٹونیا (منفی 56 فیصد)، یوکرین (منفی 51 فیصد)، لتھوانیا (منفی 50 فیصد) اور آرمینیا (منفی 48 فیصد) کا نمبر آتا ہے۔

اہم خبریں سے مزید