• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پنجاب میں جرائم کی شرح میں 32 فیصد تاریخی کمی، سندھ، کے پی میں اضافہ

لاہور (آصف محمود بٹ)پنجاب میں جرائم کی شرح میں 32فیصد تاریخی کمی، سندھ ،خیبر پختونخوا میں اضافہ ۔پنجاب میں ڈکیتی60،گھروں میں ڈکیتی 72،راہزنی 51،قتل 24،چوری 27،کارچوری34فیصد کمی آئی ۔سندھ میں شہری جرائم ،کاروکاری کے واقعات میں اضافہ،خیبرپختونخوا میں مہلک تشدد اور پولیس پر حملوں میں تیزی آئی پنجاب، سندھ کے درمیان فرق کی بڑی وجوہات میں  CCDکا قیام اور مضبوط سیاسی عزم شامل ہیں ، سی سی ڈی  نے اپنی حکمت عملی پر   ہیومن رائٹس کمیشن  آف پاکستان   کے تحفظات  کو مسترد کردیا ،  کراچی رینج صوبے میں بڑھتے جرائم کی بنیادی وجہ ،صرف کراچی میں اغوا کے واقعات 2,597 سے بڑھ کر 3,457 ہوگئے ۔۔وفاقی وزارت داخلہ کے ذیلی ادارے نیشنل پولیس بیورو کی جانب سے مرتب کردہ جامع تقابلی جائزے نے ملک میں امن و امان کی صورت حال کے تین بالکل مختلف رخ نمایاں کر دیے ہیں ۔ "جنگ" کو حاصل مختلف صوبوں میں جرائم کی شرح اور نوعیت پر مشتمل اعداد و شمار کے مطابق پنجاب نے جرائم میں تاریخی اور منظم کمی ریکارڈ کر کے قومی سطح پر ایک نیا معیار قائم کیا ہے، جبکہ سندھ اور خیبرپختونخوا میں قتل، اغوا، جائیداد کے خلاف جرائم اور پولیس پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔رپورٹ میں پنجاب کے لیے 18 اپریل تا 31 دسمبر کے عرصے، سندھ کے لیے یکم جنوری تا 30 نومبر، جبکہ خیبرپختونخوا کے لیے مکمل کیلنڈر سال 2024 اور 2025 کے اعداد و شمار کا تقابل کیا گیا ہے۔ اسے حالیہ برسوں کی سب سے مفصل بین الصوبائی کرائم بریک ڈاؤن قرار دیا جا رہا ہے۔پنجاب کی کارکردگی حجم اور یکسانیت دونوں حوالوں سے نمایاں رہی۔

اہم خبریں سے مزید