لاہور(آصف محمود بٹ) پنجاب لیگل ایڈ رولز 2025 میں ترامیم کا مسودہ تیار، وزیر اعلی حتمی منظوری دیں گی ،پنجاب حکومت نے غریب،بے سہارا خاندانی،معاشی و معاشرتی مشکلات کا شکارخواتین کو مفت قانونی امداد فراہم کرنے کے لئے تاریخ میں پہلی بار پنجاب پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ میں"Tele legal Aid Assistance" شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔50ہزارسے کم آمدن کا سرٹیفکیٹ نہیں دینا پڑیگا، وکلا کاسالانہ سرکاری معاوضہ 25سے35ہزار بڑھایا جائے گا۔ یہ پروگرامپ نجاب لیگ ایڈ ایجنسی کے تحت شروع کیا جا رہاہے جو مفت قانونی امداد کی فراہمی تک عوام کی آسان رسائی کے سلسلے میں کی جانے والی ریفارمز کا حصہ ہے۔ متاثرہ خواتین ٹیلی فون ہیلپ لائن پرمفت قانونی امداد حاصل کرسکیں۔معتبر ذرائع نے "جنگ" کو بتایا کہ"ٹیلی لیگل ایڈ اسسٹنس" کے قیام کے لئے پنجاب لیگل ایڈ رولز 2025 میں ترامیم کی جارہی ہیں جس کی حتمی منظوری رواں ہفتے وزیراعلی مریم نواز شریف دیں گی۔ذرائع نے بتایا کہ لیگل ایڈ رولز2025میں ایک اور اہم ترمیم ان افراد سے متعلق ہے جو لیگل ایڈ قانون کے تحت مفت قانونی امداد کے لئے یہ ثبوت پیش نہیں کرسکتے کہ ان کی آمدن 50ہزار روپے سے کم ہے۔