اسلام آباد (شکیل اعوان /ساجدچوہدری/ نامہ نگار) قومی احتساب ترمیمی بل 2026 سینیٹ اور قومی اسمبلی سےچند گھنٹوں میں منظور‘ ایوان بالا میں اپوزیشن کا شدید احتجاج ‘ بل کی کاپیاں پھاڑ دیں ‘ ترمیمی بل کے مطابق چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع ہو سکےگی‘ نیب عدالت یا ہائیکورٹ کے پاس ضمانت دینے یامجرم کو رہاکرنے کا اختیار ہوگا،مجرم کی درخواست یانیب چیئرمین کی ہدایت پر، پراسیکوٹر جنرل اکاؤنٹبلیٹی ، ہائیکورٹ کے فیصلےکےخلاف تیس دن کےاندر وفاقی آئینی عدالت میں اپیل دائر کر سکے گا۔بل پر تنقید کرتے ہوئے سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ قانون کو بلڈوز کیا جارہا ہے‘ یہ سینیٹ کے منہ پر طمانچہ ہے‘ نیب کا چیئرمین وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے بنتا ہے‘اب آپ کہہ رہے ہیں کہ نیب چیئرمین کو توسیع دے دیں‘ آپ ایسا کریں جن عہدوں کو توسیع دینی ہے ان عہدوں کو تاحیات قرار دے دیں۔سینیٹ میں قائد ایوان اسحاق ڈار نے کہا کہ ماضی یاد کریں تو 50 سے زیادہ قانون پی ٹی آئی نے جلدبازی میں منظور کرائے‘جے یوآئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بل کو انصاف کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئینی عدالت کو حکومت نے مزیدمتنازع بنادیا ‘ہم نے پارلیمان کا وقار ختم کردیا ہے‘ وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑنے کہاکہ قانون سازی پارلیمان کااختیارہے‘بیرسٹرگوہر کا کہناتھاکہ نیب کوہمیشہ سیاسی انجینئرنگ کیلئے استعمال کیا گیا۔تفصیلات کے مطابق جمعرات کو ایوان بالا نے نیب ترمیمی بل منظور کر لیا‘ سینیٹ اجلاس میں سینیٹر عبدالقادر نے نیب ترمیمی بل منظوری کے لئے پیش کیا تو اپوزیشن نے احتجاج شروع کر دیا ۔ کامران مرتضی نے کہا کہ بل نہ ایجنڈا میں ہے اور نہ ہی اسے ضمنی ایجنڈا کے طور پر لایا گیا ۔