• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تنخواہ دار طبقے نے تاجروں کے مجموعی ٹیکس کی نسبت 352 فیصد زیادہ ٹیکس دیا

اسلام آباد(مہتاب حیدر) ایسے وقت میں جب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی پروگرام کا تیسرا جائزہ لے رہا ہے، ٹیکسیشن سے متعلق ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ تنخواہ دار طبقے نے برآمد کنندگان، ریٹیلرز، ہول سیلرز اور ڈسٹری بیوٹرز کے مجموعی ٹیکس کے مقابلے میں ساڑھے تین گنا یعنی 352 فیصد زیادہ ٹیکس ادا کیا ہے۔یہ انکشاف جرمنی کے ادارے فریڈرک ایبرٹ اسٹفٹنگ (FES) کی جانب سے جمعرات کو اسلام آباد میں منعقدہ ایک گول میز مکالمے کے دوران سامنے آیا۔ اس نشست میں ڈاکٹر ساجد امین جاوید کی تصنیف کردہ تحقیق “State, Society and Progressive Taxation in Pakistan” کا اجرا کیا گیا۔ مکالمے میں ماہرین نے پاکستان میں ٹیکسیشن کے نظام کو محض وسائل کے حصول (Extraction) کا ذریعہ قرار دیا، جو خاص طور پر 2019 کے بعد نمایاں طور پر بڑھا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں تنخواہ دار طبقے سے ٹیکس وصولی 391 ارب روپے رہی، جو 2023 میں 276 ارب روپے تھی۔ اس طرح ایک سال میں اس میں 41.66 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا۔ تحقیق کے مطابق صرف تنخواہ دار طبقے نے ہی برآمد کنندگان، ریٹیلرز، ہول سیلرز اور ڈسٹری بیوٹرز کے مجموعی ٹیکس سے 3.5 گنا زیادہ یعنی 352 فیصد زیادہ ٹیکس ادا کیا۔

اہم خبریں سے مزید