• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

2 خواتین کی گواہی ایک مرد کے برابر؛ شرعی اور آئینی طور پر کس حد تک درست؟

اسلام آباد( رپورٹ:،رانامسعود حسین) سپریم کورٹ شریعت اپیلیٹ بینچ نےقذف مقدمات میں خواتین اور مردوں کی گواہی کے فرق متعلق شرعی اپیل کی سماعت کے دوران وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا جبکہ عدالت نے سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کی کی فنانس سیکرٹری سائرہ خالد راجپوت اور کمرہ عدالت میں موجود خاتون صحافی سبین شہباز کو امائیکس کیورائے (عدالت کا دوست) مقررکرتے ہوئے واضح کیا کہ چونکہ یہ معاملہ براہِ راست خواتین کی گواہی کی حیثیت سے متعلق ہے، اس لیے خواتین کی رائے اور معاونت ضروری ہے، جسٹس شاہد وحید نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر تمام نامزد امائیکس کیورائے کو عدالت میں پیش ہونا ہوگا،یاد رہے کہ یہ مقدمہ اس شرعی و قانونی نکتہ پر مبنی ہے کہ آیا بعض معاملات میں دو خواتین کی گواہی ایک مرد کے برابر قرار دینے کا رائج تصور شرعی اور آئینی طور پر کس حد تک درست ہے۔

اہم خبریں سے مزید