• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کے بعد متوازی اپیل دائر نہیں کی جاسکتی، آئینی عدالت

اسلام آباد(جنگ رپورٹر)وفاقی آئینی عدالت نے قراردیاہے کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کے بعد متوازی اپیل دائر نہیں کی جاسکتی، ستائیسویں ترمیم میں وفاقی آئینی عدالت کو سپریم کورٹ کے فیصلوں پر نگرانی یا اپیل سننے کا اختیار نہیں ملا،آئین لامتناہی مقدمہ بازی کی اجازت نہیں دیتا ، قانونی جنگ کا کہیں نہ کہیں اختتام ضروری ہے ، نجی تنازعات کو آئینی حقوق کے نفاذ کا لبادہ پہنا کر بار بار عدالت میں نہیں لایا جا سکتا ۔چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے 17فروری2026کو کیس کی سماعت مکمل کی تھی ،جس کا سات صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس امین الدین خان نے قلمبند کیا ، عدالت نے نظرثانی کی درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا ، عدالت نے واضح کیا کہ یہ کیس بنیادی طور پر زمین کے معاوضہ کا ایک نجی تنازعہ ہے جو ایک خاتون زمیندارنی کے قانونی ورثاء اور صوبائی حکومت کے درمیان ہے، اسے آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت عوامی مفاد یا بنیادی حقوق کے نفاذ کا معاملہ قرار نہیں دیا جا سکتا جبکہ یہ معاملہ عدالتی درجہ بندی کے تمام مراحل طے کرنے کے بعد حتمی شکل اختیار کر چکا ہے۔
اہم خبریں سے مزید