• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سعودیہ سے رابطہ، سرزمین استعمال نہ ہونے دینے کی یقین دہانی کروائی، ایران، سرنڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، پزشکیان کی معافی پر تنقید، فوجی اڈوں پر حملے جاری رکھنے کا اعلان

کراچی (نیوز ڈیسک ) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ وہ اپنے سعودی ہم منصب اور سعودی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، عراقچی کے مطابق، سعودی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین، سمندری حدود اور فضائی حدود کو ایران کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے کا امریکی مطالبہ مسترد کردیا،ان کا کہنا ہے کہ ایران کبھی بھی سر تسلیم خم نہیں کرے گا،انہوں نے حملوں پر پڑوسی ممالک سے معذرت بھی کی اور ساتھ ہی کہا کہ وہ پڑوسی ممالک پر اس وقت تک حملہ نہیں کریں گے جب تک ان کی سرزمین ایران پر حملے کیلئے استعمال نہیں ہوتی ، دُشمنوں کو ایران کے سرنڈر کی خواہش ان کی قبروں تک لے جائے گی،برطانوی نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر کو حملوں پر معافی مانگنے پر ملک کے اندر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، سخت گیر عالم اور قانون ساز حمید رسائی نے سوشل میڈیا پر صدر سے مخاطب ہو کر کہا"آپ کا موقف غیر پیشہ ورانہ، کمزور اور ناقابلِ قبول تھا۔"جب صدر نے بعد میں سوشل میڈیا پر اپنا پچھلا بیان دہرایا، تو انہوں نے معافی کا ذکر نہیں کیا،خامنہ ای کی غیر موجودگی میں، ایرانی کونسل میں شامل عدلیہ کے سربراہ، آیت اللہ غلام حسین محسنی ایجی نے کہا کہ کچھ علاقائی ریاستوں نے اپنی سرزمین کو حملوں کے لیے استعمال ہونے دیا ہے۔انہوں نے پزشکیان کے زیادہ مصالحتی بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا، "ان اہداف پر بھاری حملے جاری رہیں گے۔ایرانی سیکورٹی کے سربراہ علی لاریجانی نے کہا ہے کہ ایرانی حکام کے اندر کوئی اختلاف نہیں ہے ، دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر انتہائی سخت حملوں کی دھمکی دیتے ہوئےدعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنے پڑوسیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں، انہوں نے کہا کہ ایران نے امریکی اور اسرائیلی ایکشن کی وجہ سے پڑوسی ممالک سے معافی مانگی ہے ، ٹرمپ نے کہا کہ ہم جنگ جیت چکے ہیں ، اب برطانوی وزیراعظم اسٹارمر کی ضرورت نہیں ہے، برطانیہ کا جنگ میں ساتھ نہ دینا یاد رہے گا۔ ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایکس پر کہا ہے کہ خطے میں امریکی اڈوں کی میزبانی کرنے والے ممالک "امن سے نہیں رہ سکیں گے"، ایرانی صدر کے بیان کے بعد بھی خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا ،پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ انہوں نےایران میں پانی فراہم کرنے والےپلانٹ پر امریکی فضائی حملے کے بعد بحرین میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل داغے ہیں ، ان کے مطابق یہ اڈہ پانی کے پلانٹ پر حملے میں استعمال ہوا تھا،دبئی، قطر کے دارالحکومت دوحہ، سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور کویت میں بھی میزائل حملے ہوئے ہیں ،کویت کی نیشنل آئل کمپنی نے پیداوار میں "احتیاطی" کمی کا اعلان کر دیا ہے۔اماراتی حکام نے بتایا ہے کہ دبئی کے علاقے البرشاء میں فضا میں تباہ کئے گئے میزائل کا ملبہ ایک گاڑی پر گرنے سے پاکستانی شہری جاں بحق ہو گیا۔پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے میرینا میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔عراق کے دارالحکومت بغدادمیں امریکی سفارتخانے پر راکٹوں سے حملہ ہوا ہے تاہم فوری طور پر ان حملوں میں کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ہم ایران کے حملوں کی زد میں آنے والے ممالک کیساتھ کھڑے ہیں۔ایران کےچیف جسٹس نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایسے علاقائی پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانا جاری رکھے گا جو دشمنوں کو ایسے مقامات فراہم کر رہے ہیں جو ہمارے ملک کے خلاف جارحیت کے لئےاستعمال ہوتے ہیں۔عبوری قیادت کونسل کے رکن غلام حسین محسنی اژای نے کہاکہ ایران کی مسلح افواج کے شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ خطے کے کچھ ممالک کا جغرافیہ کھلے اور چھپے بندوں سے دشمن کے استعمال میں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان اہداف پر شدید حملے جاری رہیں گے۔ترکیہ نے ہفتے کے روز ایران کے اندررجیم چینج کے مقصد سے خانہ جنگی بھڑکانے کی کوششوں کے خلاف خبردار کیا ہے اور اسے ایک "تاریخی" غلطی قرار دیا ہے۔ترک وزیر خارجہ ہاقان فیدان نے گزشتہ دونوں ایران سے فائر کئے گئے میزائل پر تہران کو متنبہ کیا ہے کہ اس کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔ بحرینی وزار ت داخلہ کا کہنا ہے کہ میزائل حملے کے بعد کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے اور ان میں آگ بھی لگی ہے۔ سعودی عرب نے بتایا ہے کہ ریاض میں موجود سلطان ائیر بیس، جہاں امریکی فوجی اڈہ قائم ہے ،کے قریب بیلسٹک میزائل گرا ہے ،پاسداران انقلاب نے بتایا ہے کہ انہوں نے متحدہ عرب امارات میں الظفرہ ائیربیس پرڈرون حملہ کیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کی بحریہ نے امریکی سیٹلائٹ کے مواصلاتی نظام، وارننگ اور فائر کنٹرول ریڈار کو نشانہ بنایا ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی ایرانی صدر کی جانب سے پڑوسی ممالک کے خلاف کارروائی نہ کرنےکے بیان سے قبل صبح سویرے کی گئی تھی۔متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے تنازع شروع ہونے کے بعد اپنے پہلے عوامی خطاب میں کہا ہے کہ ملک "جنگ کے دور" سے گزر رہا ہے۔ابو ظہبی ٹی وی پر نشر ہونے والے حملوں کے متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اپنے ملک، اپنے عوام اور اپنے رہائشیوں کے تئیں اپنے فرائض کی ادائیگی جاری رکھے گا۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ متحدہ عرب امارات "سخت جان ہے اور اس کا ذائقہ کڑوا ہے - ہم کوئی آسان شکار نہیں ہیں۔"ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی نے ہفتے کے روز کہا کہ امریکہ اور اسرائیل اسلامی جمہوریہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید