کراچی (رفیق مانگٹ)کیا ایران پر حملہ دراصل تیسرے ہیکل کی تعمیر کے لیے ہے؟امریکی وزیر جنگ کی ویڈیو منظر عام پرآگئی، امریکی مبصر کا کہنا ہے کہ صہیونی لابی نےٹرمپ پر دباؤ ڈال کر پیٹ ہیگستھ کو امریکی وزیرِ جنگ مقرر کروایا، پیٹ ہیگستھ نے تاریخی معجزات کے تناظر میں ہیکل کی تعمیر پر بات کی1917، 1948، 1967 اور 2017 کے واقعات کو معجزات قرار دیا۔ تفصیلات کے مطابق امریکا میں ایک پرانا ویڈیو بیان دوبارہ زیرِ بحث آ گیا ہے جس میں موجودہ امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ تیسری ہیکل (تھرڈ ٹیمپل) کی ممکنہ تعمیر کا ذکر کرتے نظر آتے ہیں۔ امریکی سیاسی مبصر ٹکر کارلسن کی ویڈیو کلپ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صہیونی لابی، جس کی قیادت ریپبلکن جیوش کولیشن کے نارم کولمین سے منسوب کی جاتی ہے، نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ڈال کر پیٹ ہیگستھ کو امریکی وزیرِ جنگ کے طور پر مقرر کروایا۔ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ بہت سے لوگوں کو یہ علم نہیں تھا کہ یروشلم میں فاؤنڈیشن اسٹون کے مقام پر تیسری ہیکل کی تعمیر کی ایک تحریک موجود ہے۔ مبصر کے مطابق یہ موضوع عموماً اس قدر پیچیدہ، مذہبی اور خفیہ نوعیت کا سمجھا جاتا ہے کہ مرکزی دھارے کی سیاسی گفتگو میں اس کا کم ہی ذکر کیا جاتا ہے۔اس بحث کو مزید تقویت اس وقت ملی جب 2018 کی ایک تقریر سامنے آئی جس میں پیٹ ہیگستھ نے تاریخی واقعات کو معجزات قرار دیتے ہوئے تیسری ہیکل کی ممکنہ تعمیر کا حوالہ دیا تھا۔اپنی تقریر میں انہوں نے کہا تھا کہ 1917، 1948 اور 1967 کے واقعات معجزات تھے، جبکہ 2017 میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینا بھی ایک معجزہ تھا۔ ان کے مطابق اس بات کی کوئی وجہ نہیں کہ ہیکل کی دوبارہ تعمیر کا معجزہ ممکن نہ ہو۔